بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 64
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾
اے نبیؐ، تمہارے لیے اور تمہارے پیرو اہلِ ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے
اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو جو تیری پیروی کر رہے ہیں
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) اللہ تمہیں کافی ہے اور یہ جتنے مسلمان تمہارے پیرو ہوئے،
اے نبی! آپ کے لئے اللہ اور وہ اہلِ ایمان کافی ہیں جو آپ کے پیروکار ہیں۔
اے نبی! تجھے اللہ کافی ہے اور ان مومنوں کو بھی جو تیرے پیچھے چلے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ایک غازی دس کفار پہ بھاری ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو جہاد کی رغبت دلا رہا ہے اور انہیں اطمینان دلارہا ہے کہ وہ انہیں دشمنوں پر غالب کرے گا چاہے وہ ساز و سامان اور افرادی قوت میں زیادہ ہوں، ٹڈی دل ہوں اور گو مسلمان بےسرو سامان اور مٹھی بھر ہوں۔ فرماتا ہے ’ اللہ کافی ہے اور جتنے مسلمان تیرے ساتھ ہوں گے وہی کافی ہیں۔ پھر اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ مومنوں کو جہاد کی رغبت دلاتے رہو۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صف بندی کے وقت مقابلے کے وقت برابر فوجوں کا دل بڑھاتے بدر کے دن فرمایا: { اٹھو اس جنت کو حاصل کرو جس کی چوڑائی آسمان و زمین کی ہے۔ } عمیر بن حمام کہتے ہیں اتنی چوڑی؟ فرمایا: { ہاں ہاں اتنی ہی۔ } اس نے کہا واہ واہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ کس ارادے سے کہا؟} کہا اس امید پر کہ اللہ مجھے بھی جنتی کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میری پیشگوئی ہے کہ تو جنتی ہے۔ } وہ اٹھتے ہیں دشمن کی طرف بڑھتے ہیں اپنی تلوار کامیان توڑ دیتے ہیں کچھ کھجوریں جو پاس ہیں کھانی شروع کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں جتنی دیر میں انہیں کھاؤں اتنی دیر تک بھی اب یہاں ٹھہرنا مجھ پر شاق ہے انہیں ہاتھ سے پھینک دیتے ہیں اور حملہ کر کے شیر کی طرح دشمن کے بیچ میں گھس جاتے ہیں اور جوہر تلوار دکھاتے ہوئے کافروں کی گردنیں مارتے ہیں اور حملہ کرتے ہوئے شہید ہو جاتے ہیں رضی اللہ عنہ و رجاء۔۱؎ [صحیح مسلم:1901] ‏‏‏‏

ابن المسیب اور سعد بن جیر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے وقت اتری جب کہ مسلمانوں کی تعداد پوری چالیس کی ہوئی۔ لیکن اس میں ذرا نظر ہے اس لیے کہ یہ آیت مدنی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کا واقعہ مکہ شریف کا ہے۔ حبشہ کی ہجرت کے بعد اور مدینہ کی ہجرت سے پہلے کا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ مومنوں کو بشارت دیتا ہے اور حکم فرماتا ہے کہ ’ تم میں سے بیس ان کافروں میں سے دو سو پر غالب آئیں گے۔ ایک سو ایک ہزار پر غالب رہیں گے غرض ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے کا ہے۔‘ پھر حکم منسوخ ہو گیا لیکن بشارت باقی ہے جب یہ حکم مسلمانوں پر گراں گذرا۔ ایک دس کے مقابلے سے ذرا جھجکا تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کر دی اور فرمایا۔ اب اللہ نے بوجھ ہلکا کر دیا۔ لیکن جتنی تعداد کم ہوئی اتنا ہی صبر ناقص ہو گیا پہلے حکم تھا کہ ’ بیس مسلمان دو سو کافروں سے پیچھے نہ ہٹیں ‘ اب یہ ہوا کہ ’ اپنے سے دگنی تعداد یعنی سو دو سو سے نہ بھاگیں۔‘ پس گرانی گزرنے پر ضعیفی اور ناتوانی کو قبول فرما کر اللہ نے تخفیف کر دی۔ پس دگنی تعداد کے کافروں سے تو لڑائی میں پیچھے ہٹنا لائق نہیں ہاں اس سے زیادتی کے وقت طرح دے جانا جرم نہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں یہ آیت ہم صحابیوں رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت پڑھ کر فرمایا: { پہلا حکم اٹھ گیا۔} ۱؎ [مستدرک حاکم:239/2:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 64) {يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ …:} اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کافی ہے، اس سے شاید کوئی خیال کرتا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہے، اس لیے یہاں دوبارہ اس جملے کو لا کر ساتھ مومنین کا بھی اضافہ کر دیا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اور آپ کی پیروی کرنے والے تمام مومنوں کو کافی ہے۔ {” وَ مَنِ اتَّبَعَكَ “} میں واؤ کا عطف {”حَسْبُكَ “} کے کاف پر ہے، یعنی اللہ تعالیٰ تجھے اور تیرے پیچھے چلنے والے مومنوں کو کافی ہے۔ یہ واؤ بمعنی {” مَعَ “} بھی ہو سکتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو مع آپ کے ساتھیوں کے سب کو کافی ہے۔ بعض لوگوں نے اس واؤ کا عطف لفظ {” اللّٰهُ “} پر ڈالا ہے، اس صورت میں ترجمہ ہو گا کہ تجھے اللہ کافی ہے اور وہ مومن کافی ہیں جو تیرے پیروکار ہیں، مگر یہ عطف اور ترجمہ سراسر غلط ہے، کیونکہ پورے قرآن و حدیث میں صرف اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنے اور اسی کو کافی سمجھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کا حکم ہے، فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ……» توکل کا یہ حکم {”الْمُؤْمِنُوْنَ “} اور {” الْمُتَوَكِّلُوْنَ “} کے الفاظ کے ساتھ ۹ جگہ ہے اور فرمایا: «وَ عَلَى اللّٰهِ فَتَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ» [ المائدۃ: ۲۳ ] ”اور صرف اللہ پر بھروسا کرو، اگر تم مومن ہو۔“ مخلوق تو خود اپنے لیے کافی نہیں، وہ دوسروں کو کیا کفایت کرے گی۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ ایسے مواقع پر ایک شعر لکھا کرتے تھے سنبھلتا نہیں جن سے اپنا دوپٹا سنبھالیں گے کیا وہ کلیجہ کسی کا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں پھینکے جانے کے وقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے احد کے بعد کفار کے جمع ہو کر دوبارہ حملہ آور ہونے کے موقع پر «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۷۳ ] کہا۔ [بخاری، التفسیر، سورۃ آل عمران: ۴۵۶۳ ] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ اور میرے ساتھی کافی ہیں۔ خود اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا: «فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ» ‏‏‏‏ [ التوبۃ: ۱۲۹ ] ”پھر اگر وہ منہ موڑیں تو کہہ دے مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور وہی عرش عظیم کا رب ہے۔“ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «اِنْ يَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَ اِنْ يَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِيْ يَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏ [ آل عمران: ۱۶۰ ] ”اگر اللہ تمھاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب آنے والا نہیں اور اگر وہ تمھارا ساتھ چھوڑ دے تو وہ کون ہے جو اس کے بعد تمھاری مدد کرے گا؟ اور اللہ ہی پر پھر لازم ہے کہ مومن بھروسا رکھیں۔“
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →