بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 56
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
اَلَّذِیۡنَ عٰہَدۡتَّ مِنۡہُمۡ ثُمَّ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَہُمۡ فِیۡ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۶﴾
(خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تو نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے
جن سے آپ نے عہد وپیمان کر لیا پھر بھی وه اپنے عہد وپیمان کو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اور بالکل پرہیز نہیں کرتے
وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر با ر اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں
(اے رسول(ص)) جن لوگوں سے آپ نے (کئی بار صلح کا) معاہدہ کیا اور انہوں نے ہر بار اسے توڑا۔ اور وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے۔
وہ جن سے تو نے عہد باندھا، پھر وہ اپنا عہد ہر بار توڑ دیتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭

زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔

📖 احسن البیان

56۔ 1 یہ کافروں ہی کی ایک عادت بیان کی گئی ہے کہ ہر بار نقص عہد کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کے نتائج سے ذرا نہیں ڈرتے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ کو مراد لیا ہے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ کافروں کی مدد نہیں کریں گے لیکن انہوں نے اس کی پاسداری نہیں کی۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →