بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 53
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾
یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ کسی قوم پر کوئی نعمت انعام فرما کر پھر بدل دے جب تک کہ وه خود اپنی اس حالت کو نہ بدل دیں جو کہ ان کی اپنی تھی اور یہ کہ اللہ سننے واﻻ جاننے واﻻ ہے
یہ اس لیے کہ اللہ کسی قوم سے جو نعمت انہیں دی تھی بدلتا نہیں جب تک وہ خود نہ بدل جائیں اور بیشک اللہ سنتا جانتا ہے
یہ اس بنا پر ہے کہ اللہ کبھی اس نعمت کو تبدیل نہیں کرتا جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہے جب تک وہ خود اپنی حالت تبدیل نہ کر دیں اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔
یہ اس لیے کہ اللہ کبھی وہ نعمت بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر کی ہو، یہاں تک کہ وہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور اس لیے کہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ ظالم نہیں لوگ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ٭٭

اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی نعمتیں گناہوں سے پہلے نہیں چھینتا۔ جیسے ایک اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ» ۱؎ [ 13-الرعد: 11 ] ‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی ان باتوں کو نہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ جب وہ کسی قوم کی باتوں کی وجہ سے انہیں برائی پہنچانا چاہتا ہے تو اس کے ارادے کوئی بدل نہیں سکتا۔ نہ اس کے پاس کوئی حمایتی کھڑا ہو سکتا ہے۔‘ ’ تم دیکھ لو کہ فرعونیوں اور ان جیسے ان سے گزشتہ لوگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں اللہ نے اپنی نعمتیں دیں وہ سیاہ کاریوں میں مبتلا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے دیئے ہوئے باغات چشمے کھیتیاں خزانے محلات اور نعمتیں جن میں وہ بد مست ہو رہے تھے سب چھین لیں۔ اس بارے میں انہوں نے اپنا برا آپ کیا۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا۔‘

📖 احسن البیان

53۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم کفران نعمت کا راستہ اختیار کرکے اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کر کے اپنے احوال و اخلاق کو نہیں بدل لیتی، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کا دروازہ بند نہیں فرماتا۔ دوسرے لفظوں میں اللہ تعالیٰ گناہوں کی وجہ سے اپنی نعمتیں سلب فرمالیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کا مستحق بننے کے لئے ضروری ہے کہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔ گویا تبدیلی کا مطلب یہی ہے کہ قوم گناہوں کو چھوڑ کر اطاعت الٰہی کا راستہ اختیار کرے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 53) ➊ {حَتّٰى يُغَيِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ:} ”جو ان کے دلوں میں ہے “ یعنی اعتقاد اور نیت جب تک نہ بدلے اللہ کی بخشی ہوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو اپنی عطا کردہ نعمت سے اسی صورت میں محروم کرتا ہے جب وہ اپنے عقائد و اعمال اور اخلاق کو بدل کر اپنے متعلق ثابت کر دیتی ہے کہ وہ اس نعمت کی مستحق ہر گز نہیں ہے، مثلاً ایمان کے بجائے کفر، شکر کے بجائے نا شکری اور نیکی کے بجائے گناہ کرنے لگتی ہے، اس وقت اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی عطا کردہ نعمت واپس لے لیتا ہے اور اسے مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ فرعون کی قوم اور اسی طرح قریش کو اللہ تعالیٰ نے بڑی شان و شوکت اور خوش حالی سے نوازا تھا، لیکن ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں۔ اس زمانے میں مسلمان جو ساری دنیا میں ذلت، غلامی اور دوسروں کی حاشیہ برداری کی زندگی بسر کر رہے ہیں وہ بھی ان کی اپنی بد اعمالیوں کی سزا ہے، ورنہ ممکن ہی نہیں کہ ایک قوم کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہو اور اس پر عامل ہو، پھر بھی دنیا میں ذلیل و خوار رہے۔ ➋ {وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ:} یعنی وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے، اس کے بندے جیسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں ویسا ہی وہ انھیں بدلہ دیتا ہے۔
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →