بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الأنفال — Surah Anfal
آیت نمبر 51
کل آیات: 75
قرآن کریم الأنفال آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ الأنفال islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿ۙ۵۱﴾
یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "
یہ بسبب ان کاموں کے جو تمہارے ہاتھوں نے پہلے ہی بھیج رکھا ہے بیشک اللہ اپنے بندوں پر ﻇلم کرنے واﻻ نہیں
یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اللہ بندوں پر ظلم نہیں کرتا
(اے دشمنانِ حق!) یہ سزا ہے اس کی جو تمہارے ہاتھ پہلے بھیج چکے ہیں۔ اور اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
یہ اس کے بدلے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے آگے بھیجا اور اس لیے کہ اللہ بندوں پر کچھ بھی ظلم کرنے والا نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کفار کے لیے سکرات موت کا وقت بڑا شدید ہے ٭٭

’ کاش کہ تو اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم تو دیکھتا کے فرشتے کس بری طرح کافروں کی روح قبض کرتے ہیں وہ اس وقت ان کے چہروں اور کمروں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں آگ کا عذاب اپنی بداعمالیوں کے بدلے چکھو۔ ‘ یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ بھی بدر کے دن کا ہے کہ سامنے سے ان کافروں کے چہروں پر تلواریں پڑتی تھیں اور جب بھاگتے تھے تو پیٹھ پر وار پڑتے تھے فرشتے انکا خوب بھرتہ بنا رہے تھے۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ”میں نے ابوجہل کی پیٹھ پر کانٹوں کے نشان دیکھے ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں یہ فرشتوں کی مار کے نشان ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:16220:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حق یہ ہے کہ یہ آیت بدر کے ساتھ مخصوص تو نہیں الفاظ عام ہیں ہر کافر کا یہی حال ہوتا ہے۔ سورۃ قتال میں بھی اس بات کا بیان ہوا ہے اور سورۃ الانعام کی «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنفُسَكُمُ» ۱؎ [ 6-الأنعام: 93 ] ‏‏‏‏ میں بھی اس کا بیان مع تفسیر گذر چکا ہے۔ چونکہ یہ نافرمان لوگ تھے ان کی موت سے بدن میں چھپتی پھرتی ہیں جنہیں فرشتے جبراً گھسیٹا جاتا ہے جس طرح کسی زندہ شخص کی کھال کو اتارا جائے اسی کے ساتھ رگیں اور پٹھے بھی آ جاتے ہیں۔ ۱؎ [مسند احمد:287/4:حسن] ‏‏‏‏ فرشتے اس سے کہتے ہیں اب جلنے کا مزہ چکھو۔ یہ تمہاری دینوی بداعمالی کی سزا ہے اللہ تعالیٰ ظالم نہیں وہ تو عادل حاکم ہے۔ برکت و بلندی، غنا، پاکیزگی والا بزرگ اور تعریفوں والا ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم شریف کی حدیث قدسی میں ہے کہ ’ میرے بندو میں نے اپنے اوپر ظلم حرام کر لیا ہے اور تم پر بھی حرام کر دیا ہے پس آپس میں کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے میرے غلاموں میں تو صرف تمہارے کئے ہوئے اعمال ہی کو گھیرے ہوئے ہوں بھلائی پاکر میری تعریفیں کرو اور اس کے سوا کچھ اور دیکھو تو اپنے تئیں ہی ملامت کرو۔‘ ۱؎ [صحیح مسلم:2577] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

51۔ 1 یہ ضرب و عذاب تمہارے اپنے کرتوتوں کا نتیجہ ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں، بلکہ وہ تو عادل ہے جو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک ہے، حدیث قدسی میں بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! میں نے اپنے نفس پر ظلم حرام کیا ہے اور میں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام کیا ہے پس تم ایک دوسرے پر ظلم مت کرو۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جو میں نے شمار کر کے رکھے ہوئے ہیں، پس جو اپنے اعمال میں بھلائی پائے۔ اس پر اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے برعکس پائے تو وہ اپنے آپ کو ہی ملامت کرے (صحیح مسلم)

📖 القرآن الکریم

(آیت 51) {ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ …:} یعنی یہ عذاب عین عدل ہے، کیونکہ اس نے تمھارے سمجھانے کے لیے اپنے رسول بھیجے، کتابیں نازل فرمائیں، مگر تم نے ایک نہ مانی۔ {” ظَلَّامٌ“} مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ظلم کرنے والا، مگر یہاں اس پر نفی آئی ہے تو مبالغے کی نفی نہیں کہ معنی یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر بہت ظلم کرنے والا نہیں (گویا تھوڑا کر سکتا ہے) بلکہ یہاں نفی میں مبالغہ مراد ہو گا، یعنی اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کرنے والا بھی نہیں۔ دیکھیے فوائد سورۂ آل عمران (۱۸۲) ایک لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، میرے بندو! میں نے ظلم اپنے اوپر حرام قرار دے رکھا ہے اور اسے تمھارے درمیان بھی حرام ٹھہرایا ہے، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو! یہ تمھارے اپنے ہی اعمال ہیں جن کو میں محفوظ رکھتا ہوں، پھر تمھیں ان کا پورا بدلہ دوں گا، پھر جو خیر پائے وہ اللہ کا شکر ادا کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ [ مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷، عن أبی ذر رضی اللہ عنہ]
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →