بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ العاديات — Surah Adiyat
آیت نمبر 6
کل آیات: 11
قرآن کریم العاديات آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ العاديات islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
بیشک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
بےشک انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔
بے شک انسان اپنے رب کا یقینا بہت ناشکرا ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭

مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] ‏‏‏‏ پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔‏‏‏‏“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔‏‏‏‏“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔‏‏‏‏“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] ‏‏‏‏ مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔

مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (‏‏‏‏اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔

امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔‏‏‏‏“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ‏‏‏‏ ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] ‏‏‏‏ یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

📖 احسن البیان

1۔ 6 یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 7،6) {اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ …: ” كَنَدَ يَكْنُدُ “ (ن) ”كُنُوْدًا“} (کاف کے ضمہ کے ساتھ) {”اَلنِّعْمَةَ“} نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔ {” كَنُوْدٌ “} (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن {” فَعُوْلٌ“} بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے۔ اصل میں {”كَنُوْدٌ“} اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقینا اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انھیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلاچون و چرا چل پڑتے ہیں، نہ اپنے آرام کی پروا کرتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی کی، پھر وہ مالک کے کہنے پر صدق نیت کے ساتھ اس طرح سرپٹ دوڑتے ہیں کہ ان کے جوف سے آواز نکلنے لگتی ہے اور تیزی سے دوڑتے ہوئے ان کے سم جہاں پڑتے ہیں ان کی ٹھوکر اور رگڑ کے ساتھ پتھروں سے چنگاریاں نکلتی جاتی ہیں۔ پھر صبح کے وقت جب ہر چیز آرام کر رہی ہوتی ہے، ان کے مالک انھیں لے کر دشمن کو لوٹنے کے لیے دھاوا بولتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غبار اڑاتے ہوئے دوڑتے چلے جاتے ہیں، خواہ غبار کے ساتھ سانس گھٹ رہا ہو، یا آگے دشمن کی تلواریں، تیر اور نیزے ان کے سینے چھید رہے ہوں، یہ کسی بھی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسی حالت میں دشمن کی جماعت کے وسط میں جا گھستے ہیں۔ گھوڑے اپنے اس مالک کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں جو ان کی تھوڑی بہت خدمت کرتا ہے، جس نے نہ انھیں پیدا کیا ہے اور نہ ان کا حقیقی رازق ہے، تو کیا انسان اللہ تعالیٰ کے کہنے پر جو اس کا خالق بھی ہے، مالک اور رازق بھی اتنی تگ و دو کرنے اور قربانی دینے پر تیار ہے؟ وہ خود مانے گا کہ یقینا نہیں، تو پھر اس کے ناشکرا ہونے میں کیا شک ہے؟
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →