قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم!
احمد رضا خان بریلوی
قسم ان کی جو دوڑتے ہیں سینے سے آواز نکلتی ہوئی
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے ان گھوڑوں کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے ان ( گھوڑوں) کی جو پیٹ اور سینے سے آواز نکالتے ہوئے دوڑنے والے ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
ہانپتے ہوئے دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم (1)
اس سورت کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے، راجح یہی ہے کہ یہ مکی ہے۔ اس میں شواہد کے ساتھ انسان کا ناشکرا ہونا اور بخیل و حریص ہونا بیان کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی قیامت کا تذکرہ ہے۔ (آیت 1){ وَ الْعٰدِيٰتِ ضَبْحًا: ” الْعٰدِيٰتِ “ ”عَدَا يَعْدُوْا عَدْوًا“} (ن) (دوڑنا) سے اسم فاعل ہے، دوڑنے والے۔ {”ضَبْحٌ“} اس آواز کو کہتے ہیں جو گھوڑے کے تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کے جوف سے نکلتی ہے، جو نہ سانس کی آواز ہوتی ہے اور نہ ہنہنانے کی، اس لیے اس کا معنی ” ہانپ کر“ کرنا محل نظر ہے۔ آیت میں اگرچہ گھوڑوں کا لفظ نہیں، مگر لغت عرب میں{” ضَبْحٌ“} کا لفظ گھوڑے کے لیے آتا ہے یا کتے کے لیے، کیونکہ یہ مخصوص آواز انھی دو جانوروں سے نکلتی ہے۔ اس جگہ کتے مراد ہو ہی نہیں سکتے، اس لیے گھوڑے ہی مراد ہیں۔ یہاں تیز دوڑنے والے گھوڑوں کو بطور شاہد پیش کیا گیا ہے، وہ گھوڑے مسلمانوں کے ہوں یا کافروں کے، انھیں غازیوں کے ساتھ مخصوص بھی نہیں کیا گیا، کیونکہ مقصد گھوڑوں کی فضیلت بیان کرنا نہیں بلکہ انھیں آئندہ آنے والے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کرنا ہے۔
پھر اپنی ٹاپوں کی ٹھوکر سے (پتھر سے) چنگاریاں نکا لتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو سم مار کر چنگاریاں نکالنے والے ہیں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
2۔ 1 موریات، ایراء سے ہے آگ نکالنے والے۔ قدح کے معنی ہیں۔ صبک چلنے میں گھٹنوں یا ایڑیوں کا ٹکرانا، یا ٹاپ مارنا۔ اسی سے قدح بالزناد ہے۔ چقماق سے آگ نکالنا۔ یعنی گھوڑوں کی قسم جن کی ٹاپوں کی رگڑ سے پتھروں سے آگ نکلتی ہے جیسے چقماق سے نکلتی ہے (جو کہ ایک قسم کا پتھر ہے)
(آیت 2){ فَالْمُوْرِيٰتِ قَدْحًا:”أَوْرٰي يُؤْرِيْ إِيْرَاءً“} (افعال) چقماق (پتھر) سے آگ نکالنا۔ {”قَدَحَ يَقْدَحُ قَدْحًا“ } (ف) آگ نکالنے کے لیے پتھر پر پتھر مارنا ہے، مراد سم مارنا ہے۔ تیز دوڑتے ہوئے ان کے سم پتھروں پر پڑتے ہیں تو ان میں سے چنگاریاں نکلتی ہیں۔
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
3۔ 1 مغیرات، أغار یعیر سے ہے، شب خون مارنے یا دھاوا بولنے والے۔ صبحا صبح کے وقت، عرب میں عام طور پر حملہ اسی وقت کیا جاتا تھا، شب خون تو مارتے ہیں، جو فوجی گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں، لیکن اس کی نسبت گھوڑوں کی طرف اسلئے کی ہے کہ دھاوا بولنے میں فوجیوں کے یہ بہت زیادہ کام آتے ہیں۔
(آیت 3) {فَالْمُغِيْرٰتِ صُبْحًا: ” فَالْمُغِيْرٰتِ “ ”أَغَارَ يُغِيْرُ إِغَارَةً “} (افعال) سے اسم فاعل {”مُغِيْرَةٌ“} کی جمع ہے، لُوٹنے کے لیے حملہ کرنے والے۔
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
أثار، اڑانا۔ نقع، گرد و غبار۔ یعنی یہ گھوڑے جس وقت تیزی سے دوڑتے یا دھاوا بولتے ہیں تو اس جگہ پر گرد و غبار چھا جاتا ہے۔
پھر اسی حالت میں (دشمن کی) جماعت (لشکر) میں گھس جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ اس کے ساتھ بڑی جماعت کے درمیان جا گھستے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
5۔ 1 فوسطن، درمیان میں گھس جاتے ہیں۔ اس وقت، یا حالت گرد و غبار میں۔ جمعا دشمن کے لشکر۔ مطلب ہے کہ اس وقت، یا جبکہ فضا گردوغبار سے اٹی ہوئی ہے یہ گھوڑے دشمن کے لشکروں میں گھس جاتے ہیں اور گھمسان کی جنگ کرتے ہیں۔
(آیت 5) {فَوَسَطْنَ بِهٖ جَمْعًا: ” وَسَطْنَ “ ”وَسَطَ يَسِطُ وَسْطًا “ (ض) ” اَلْقَوْمَ أَوِ الْمَكَانَ “} ”کسی چیز کے درمیان میں ہونا۔“
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
1۔ 6 یہ جواب قسم ہے۔ انسان سے مراد کافر، یعنی بعض افراد ہیں۔ کنود بمعنی کفور، ناشکرا۔
(آیت 7،6) {اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌ …: ” كَنَدَ يَكْنُدُ “ (ن) ”كُنُوْدًا“} (کاف کے ضمہ کے ساتھ) {”اَلنِّعْمَةَ“} نعمت کا انکار کرنا، ناشکری کرنا۔ {” كَنُوْدٌ “} (کاف کے فتحہ کے ساتھ) بروزن {” فَعُوْلٌ“} بمعنی فاعل برائے مبالغہ ہے، بہت ناشکری کرنے والا۔ یہ مذکر و مؤنث دونوں کے لیے آتا ہے۔ اصل میں {”كَنُوْدٌ“} اس زمین کو کہتے ہیں جو کوئی چیز نہ اگاتی ہو۔ اس سورت میں پہلی پانچ آیات میں قسمیں اٹھانے کے بعد چھٹی آیت میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان یقینا اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ یہ پانچوں قسمیں اس دعوے کی دلیل اور شاہد کے طور پر لائی گئی ہیں۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ گھوڑے اپنے مالک کے ایسے وفادار اور شکر گزار ہیں کہ رات جب وہ انھیں لے کر نکلتے ہیں تو وہ بلاچون و چرا چل پڑتے ہیں، نہ اپنے آرام کی پروا کرتے ہیں اور نہ رات کی تاریکی کی، پھر وہ مالک کے کہنے پر صدق نیت کے ساتھ اس طرح سرپٹ دوڑتے ہیں کہ ان کے جوف سے آواز نکلنے لگتی ہے اور تیزی سے دوڑتے ہوئے ان کے سم جہاں پڑتے ہیں ان کی ٹھوکر اور رگڑ کے ساتھ پتھروں سے چنگاریاں نکلتی جاتی ہیں۔ پھر صبح کے وقت جب ہر چیز آرام کر رہی ہوتی ہے، ان کے مالک انھیں لے کر دشمن کو لوٹنے کے لیے دھاوا بولتے ہیں تو اس وقت بھی وہ غبار اڑاتے ہوئے دوڑتے چلے جاتے ہیں، خواہ غبار کے ساتھ سانس گھٹ رہا ہو، یا آگے دشمن کی تلواریں، تیر اور نیزے ان کے سینے چھید رہے ہوں، یہ کسی بھی چیز کی پروا نہ کرتے ہوئے اسی حالت میں دشمن کی جماعت کے وسط میں جا گھستے ہیں۔ گھوڑے اپنے اس مالک کے لیے اتنی تگ و دو کرتے ہیں جو ان کی تھوڑی بہت خدمت کرتا ہے، جس نے نہ انھیں پیدا کیا ہے اور نہ ان کا حقیقی رازق ہے، تو کیا انسان اللہ تعالیٰ کے کہنے پر جو اس کا خالق بھی ہے، مالک اور رازق بھی اتنی تگ و دو کرنے اور قربانی دینے پر تیار ہے؟ وہ خود مانے گا کہ یقینا نہیں، تو پھر اس کے ناشکرا ہونے میں کیا شک ہے؟
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
7۔ 1 یعنی انسان خود بھی اپنی ناشکری کی گواہی دیتا ہے۔ بعض لشہید کا فاعل اللہ کو قرار دیتے ہیں۔ لیکن امام شوکانی نے پہلے مفہوم کو راجح قرار دیا ہے، کیونکہ مابعد کی آیات میں ضمیر کا مرجع انسان ہی ہے۔ اس لیے یہاں بھی انسان ہی ہونا زیادہ صحیح ہے۔
اور وہ مال و دولت کی محبت میں بڑا سخت (گرفتار) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک وہ مال کی محبت میں یقینا بہت سخت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
8۔ 1 خَیْر، ُ سے مراد مال ہے، اور ایک دوسرا مفہوم یہ ہے کہ نہایت حریص اور بخیل ہے جو مال کی شدید محبت کا لازمی نتیجہ ہے۔
(آیت 8){ وَ اِنَّهٗ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيْدٌ:} یعنی اس ناشکری کا سبب مال کی شدید محبت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حرص، طمع اور بخل کی بد عادتیں ہیں جن کی وجہ سے یہ اپنے منعم حقیقی کو بھلا بیٹھا ہے۔
تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اسے وه وقت معلوم نہیں جب قبروں میں جو (کچھ) ہے نکال لیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا نہیں جانتا جب اٹھائے جائیں گے جو قبروں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں سے نکال لیا جائے گا جو کچھ ان میں (دفن) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا وہ نہیں جانتاجب قبروں میں جو کچھ ہے باہر نکال پھینکا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
9۔ 1 بعثر، نثر وبعث یعنی قبروں کے مردوں کو زندہ کر کے اٹھا کھڑا کردیا جائے گا۔
(آیت 9){ اَفَلَا يَعْلَمُ اِذَا بُعْثِرَ مَا فِي الْقُبُوْرِ:} یعنی انسان اپنے رب کی ناشکری کرتاہے اور مال سے شدید محبت کی وجہ سے اپنے مالک کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے، تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا جب وہ سب کچھ نکال باہر پھینکا جائے گا جو قبروں میں ہے اور ان میں موجود تمام مردوں کو زندہ کر کے قبروں سے نکال باہر کیا جائے گا؟ {” اَفَلَا يَعْلَمُ “} (تو کیا وہ اس وقت کو نہیں جانتا) کا مطلب یہ ہے کہ کیا وہ اس وقت سے نہیں ڈرتا کہ اپنے مالک کو کیا جواب دے گا؟
اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سینوں کی پوشیده باتیں ﻇاہر کر دی جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور کھول دی جائے گی جو سینوں میں ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ سینوں میں (چھپا ہوا) ہے وہ ظاہر کر دیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو کچھ سینوں میں ہے ظاہر کر دیا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
حصل، میز وبین یعنی سینوں کی باتوں کو ظاہر اور کھول دیا جائے گا۔
(آیت 10){ وَ حُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوْرِ:} دوسرے اعمال تو پہلے ہی ظاہر ہو چکے تھے، مگر دل کی نیت اور ارادے کے متعلق خیال ہو سکتا تھا کہ اسے کون جانتا ہے، تو اس وقت وہ بھی ظاہر کر دیے جائیں گے،جیساکہ فرمایا: «يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ» [الطارق: ۹ ] ”جس دن پوشیدہ راز ظاہر کیے جائیں گے۔“
اس دن ان کا پروردگار ان کے حالات سے بڑا باخبر ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ان کا رب اس دن ان کے متعلق یقینا خوب خبر رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:382] پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن] مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“ پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2291:ضعیف] ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ { «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے }۔ ۱؎ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ پھر فرمایا ’ اللہ اس پر شاہد ہے ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» ۱؎ [9-التوبة:17] یعنی ’ مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے ‘ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔ سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
11۔ 1 یعنی جو رب ان کو قبروں سے نکال لے گا ان کے سینوں کے رازوں کو ظاہر کر دے گا اس کے متعلق ہر شخص جان سکتا ہے کہ وہ کتنا باخبر ہے؟ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں پھر وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزا دے گا۔ یہ گویا ان اشخاص کو تنبیہ ہے جو رب کی نعمتیں تو استعمال کرتے ہیں لیکن اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے، اسکی ناشکری کرتے ہیں۔ اسی طرح مال کی محبت میں گرفتار ہو کر مال کے وہ حقوق ادا نہیں کرتے جو اللہ نے اس میں دوسرے لوگوں کے رکھے ہیں۔
(آیت 11){ اِنَّ رَبَّهُمْ بِهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّخَبِيْرٌ:} اس آیت پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ رب تعالیٰ تو ہمیشہ ہی بندوں کے حالات سے باخبرہے، پھر اس دن کو خاص کیوں فرمایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دن جب ظاہری اعضا سے سرزد ہونے والے اعمال کے علاوہ دلوں کے اعمال ظاہر کرکے ان کی بھی جزا و سزا دی جائے گی، تو اگر پہلے کسی کو شک تھا تو اس دن وہ بھی دور ہو جائے گا کہ یقینا ان کا رب ان کے متعلق خوب خبر رکھنے والا ہے۔