بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ عبس — Surah Abasa
آیت نمبر 33
کل آیات: 42
قرآن کریم عبس آیت 33
آیت نمبر: 33 — سورۃ عبس islamicurdubooks.com ↗
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّۃُ ﴿۫۳۳﴾
آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی
پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ
پس جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آجائے گی۔
پس جب کانوں کو بہرا کرنے والی ( قیامت) آجائے گی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔

📖 احسن البیان

33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 33){ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ:الصَّآخَّةُ “} یعنی کانوں کو بہرا کر دینے والی نفخ صور کی ہولناک آواز جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔
← پچھلی آیت (32) پوری سورۃ اگلی آیت (34) →