بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عبس
سورۃ عبس — 42 آیات
قرآن کریم Surah 80
عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی
مولانا محمد جوناگڑھی
وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
تیوری چڑھائی اور منہ پھیرا
علامہ محمد حسین نجفی
(ایک شخص نے) تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔
مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورت نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین میں سے ایک بڑا آدمی بیٹھا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ مسائل پوچھنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور توجہ اس دوسرے کی طرف رکھی، اس پر یہ سورت اتری۔ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس: ۳۳۳۱ ] البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ یہ مشرک اُبی بن خلف تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ سورت اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا اکرام (عزت) کیا کرتے تھے۔ [ مسند أبي یعلٰی: 431/5، ح: ۳۱۲۳ ] اس کی سند صحیح ہے۔ صاحب احسن التفاسیر نے لکھا ہے کہ جن روایات میں ابی بن خلف کے بجائے ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ وغیرہ کا نام لکھا ہے ان کی سند صحیح نہیں۔ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مکی، قرشی، مہاجرین اوّلین میں سے ہیں اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے ماموں کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے اکثر غزوات میں مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا کرتے تھے۔ (آیت 1) ➊ { عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں {”وَ مَا يُدْرِيْكَ “} سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا صحابی سے بے توجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بے توجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے: ”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کرکے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔ ➋ بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «‏‏‏‏فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى» یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بے توجہی کرتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
اَنۡ جَآءَہُ الۡاَعۡمٰی ؕ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
(صرف اس لئے) کہ اس کے پاس ایک نابینا آیا
احمد رضا خان بریلوی
اس پر کہ اس کے پاس وہ نابینا حاضر ہوا
علامہ محمد حسین نجفی
کہ اس (پیغمبرِ اسلام (ص)) کے پاس ایک نابینا آیا۔
عبدالسلام بن محمد
اس لیے کہ اس کے پاس اندھا آیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
2۔ 1 ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اشراف قریش بیٹھے گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ابن ام مکثوم جو نابینا تھے، تشریف لے آئے اور آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دین کی باتیں پوچھنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کچھ ناگواری محسوس کی اور کچھ بےتوجہی سی برتی۔ چناچہ تنبیہ کے طور پر ان آیات کا نزول ہوا (ترندی، تفسیر سورة عبس)
(آیت 2){ اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى:} (اس لیے تیوری چڑھائی) کہ اس کے پاس نابینا آیا، حالانکہ نابینا تو زیادہ لطف و کرم کا مستحق تھا۔ پھر اگر اس کے دین کی بات پوچھنے سے کسی چودھری کے ساتھ کلام قطع ہوا ہے، جس کے اسلام لانے کی آپ کو امید تھی اور اس وجہ سے تیوری پڑی ہے تو اس میں اس کا کیا قصور؟ وہ تو نابینا ہے، اسے کیا پتا کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں؟
وَ مَا یُدۡرِیۡکَ لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰۤی ۙ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے کیا خبر شاید وه سنور جاتا
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ ستھرا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور تمہیں کیا معلوم شاید وہ پاکیزہ ہو جاتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کیا چیز معلوم کرواتی ہے شاید وہ پاکیزگی حاصل کر لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
3۔ 1 یعنی وہ نابینا تجھ سے دینی رہنمائی حاصل کر کے عمل صالح کرتا، جس سے اس کا اخلاق و کردار سنور جاتا، اس کے باطن کی اصلاح ہوجاتی اور تیری نصیحت سننے سے اس کو فائدہ ہوتا۔
(آیت 4،3) {وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى …:} آپ نے جو یہ سمجھا کہ یہ نابینا تو مسلمان ہی ہے، کسی اور وقت مسئلہ پوچھ لے گا، مجھے کافر کو مسلمان بنانے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تو یہ بات اگرچہ ایک حد تک درست ہے، مگر آپ کو اس بات کا خیال بھی ضروری تھا کہ وہ کافر تو آپ کی ہدایت سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہی نہیں۔ خوف ناک بیماری میں مبتلا شخص کا علاج مقدم ہونا چاہیے مگر وہ دوا لینے پر آمادہ ہی نہ ہو تو اس کی امید میں آپ اپنے ساتھیوں سے کیوں بے توجہی کریں، جو دوائے دل کے طالب ہیں کہ آپ توجہ فرمائیں تو وہ جہل اور گناہ سے خوب پاک صاف ہو جائیں۔ {” يَزَّكّٰۤى “} میں مبالغہ ہے، یاآپ کی نصیحت سے انھیں نفع حاصل ہو جائے۔
اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یا نصیحت سنتا اور اسے نصیحت فائده پہنچاتی
احمد رضا خان بریلوی
یا نصیحت لے تو اسے نصیحت فائدہ دے،
علامہ محمد حسین نجفی
یا نصیحت حاصل کرتا اور نصیحت اسے فائدہ پہنچاتی۔
عبدالسلام بن محمد
یا نصیحت حاصل کرے تو وہ نصیحت اسے فائدہ دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص بے پروائی برتتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو بے پرواہی کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو بے پرواہ بنتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
جوشخص مالدار ہے (یا بےپروائی کرتا ہے)۔
عبدالسلام بن محمد
لیکن جو بے پروا ہو گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
5۔ 1 ایمان سے اور اس علم سے جو تیرے پاس اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ یا دوسرا ترجمہ جو صاحب ثروت و غنا ہے۔
(آیت 5تا10){ اَمَّا مَنِ اسْتَغْنٰى …: ” تَصَدّٰى “} اصل میں {”تَتَصَدّٰي“} اور {” تَلَهّٰى “} اصل میں {”تَتَلَهّٰي“} فعل مضارع مخاطب ہیں۔ یعنی جسے اپنی دولت اور سرداری کی وجہ سے آپ کی پروا ہی نہیں آپ اس کے پیچھے پڑ رہے ہیں، حالانکہ اگر وہ کفر کی نجاست سے پاک نہیں ہوتا تو آپ پر کچھ الزام نہیں اور جو کوشش کرکے آیا ہے اور وہ اللہ سے ڈرتا ہے تو آپ اس سے بے توجہی کرتے ہیں، حالانکہ آپ کی توجہ کا اصل حق دار وہ ہے جو طلب رکھتا ہے گو نادار ہے، وہ نہیں جو بے پروا ہے خواہ سرمایہ دار ہے۔
فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کی طرف تو تو پوری توجہ کرتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تم اس کے تو پیچھے پڑتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
تو تم اس کی طرف تو توجہ کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
سو تو اس کے پیچھے پڑتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی ؕ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
حاﻻنکہ اس کے نہ سنورنے سے تجھ پر کوئی الزام نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارا کچھ زیاں نہیں اس میں کہ وہ ستھرا نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ تم پر کوئی الزام نہیں اگر وہ پاکیزہ نہیں ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ تجھ پر(کوئی ذمہ داری) نہیں کہ وہ پاک نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص تیرے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو تمہارے حضور ملکتا (ناز سے دوڑتا ہوا) آتا
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا (شوق سے) آتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن جو کوشش کرتا ہوا تیرے پاس آیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
8۔ 1 اس بات کا طالب بن کر آتا ہے کہ تو خیر کی طرف اس کی رہنمائی کرے اور اسے واعظ نصیحت سے نوازے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه ڈر (بھی) رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ ڈر رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور (خدا سے) ڈرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ ڈر رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
9۔ 1 خدا کا خوف بھی اس کے دل میں ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اس سے تم بے رخی برتتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو اس سے بےرخی برتتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اسے چھوڑ کر اور طرف مشغول ہوتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
تو تم اس سے بےرُخی بر تتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو تو اس سے بے توجہی کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
10۔ 1 یعنی ایسے لوگوں کی قدر افزائی کی ضرورت ہے نہ کہ ان سے بےرخی برتنے کی۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوا کہ دعوت و تبلیغ میں کسی کو خاص نہیں کرنا چاہیے بلکہ صاحب حیثیت اور بےحیثیت، امیر اور غریب، آقا اور غلام مرد اور عورت، چھوٹے اور بڑے سب کو یکساں حیثیت دی جائے اور سب کو مشترکہ خطاب کیا جائے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ٹھیک نہیں قرآن تو نصیحت (کی چیز) ہے
احمد رضا خان بریلوی
یوں نہیں یہ تو سمجھانا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسا ہرگز نہیں چاہیے، یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
11۔ 1 یعنی غریب سے یہ روگردانی اور اصحاب حیثیت کی طرف خصوصی توجہ، یہ ٹھیک نہیں۔ مطلب ہے کہ، آئندہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔
(آیت 12،11){ كَلَّاۤ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ …: ” كَلَّاۤ “} ہر گز نہیں، یعنی جو ہوا سو ہوا،آئندہ ہر گز اس طرح نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے جو ہر خاص و عام کے لیے ہے، اس میں کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے، پھر جو چاہے نصیحت قبول کر لے، اس کا اپنا فائدہ ہے اور کوئی متکبر اگر نصیحت سن لینے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتا تو آپ کو بھی قبول کرنے والوں کو چھوڑ کر اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں۔
فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ﴿ۘ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو چاہے اس سے نصیحت لے
احمد رضا خان بریلوی
تو جو چاہے اسے یا د کرے
علامہ محمد حسین نجفی
جو چاہے اسے قبول کرے۔
عبدالسلام بن محمد
تو جو چاہے اسے قبول کر لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
12۔ 1 یعنی جو اس میں رغبت کرے، وہ اس سے نصیحت حاصل کرے، اور اسے یاد کرے اور اس پر عمل کرے اور جو اس سے منہ پھیرے، جیسے اشراف قریش نے کیا، تو ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فِیۡ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(یہ تو) پر عظمت صحیفوں میں (ہے)
احمد رضا خان بریلوی
ان صحیفوں میں کہ عزت والے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (قرآن) ان صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے صحیفوں میں ہے جن کی عزت کی جاتی ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
13۔ 1 یعنی لوح محفوظ میں، کیونکہ وہیں سے یہ قرآن اترتا ہے کہ یہ صحیفے اللہ کے ہاں بڑے محترم ہیں کیونکہ وہ علم و حکم سے پر ہیں۔
(آیت 14،13){ فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ…:} ان آیات میں قرآن مجید کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ یہ ایسے اوراق میں لکھا ہوا ہے جن کی عزت کی جاتی ہے، جو بلند شان والے اور پاک ہیں۔اس سے قرآن مجید کے وہ اوراق مراد ہیں جن میں سے فرشتوں نے لوح محفوظ سے نقل کرکے لکھا، وہ بھی جن میں قرآن کے کاتب صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر لکھا اور وہ بھی جن میں ان سے نقل کرکے لکھا گیا اور قیامت تک لکھا جائے گا۔ قرآن مجید کی جس طرح تکریم کی جاتی ہے اور جس طرح یہ شیاطین اور ملحدوں کی دخل اندازی سے محفوظ، ہر قسم کی تحریف اور رد و بدل سے مامون اور ہر قسم کے خلافِ عقل اور خلافِ حیا مضامین سے مطہر ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ اس کی ان خصوصیات کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کا موازنہ دوسری آسمانی یا غیر آسمانی کتابوں سے کیا جائے۔ ہمیں بھی قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تکریم کرنی چاہیے اور اسے اٹھاتے وقت، رکھتے وقت اور تلاوت کرتے وقت، غرض ہر موقع پر اس کا بے حد ادب ملحوظ رکھنا چاہیے، اس کی بات آجائے تو پھر کسی کی بات اس پر مقدم نہیں کرنی چاہیے۔
مَّرۡفُوۡعَۃٍ مُّطَہَّرَۃٍۭ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو بلند وباﻻ اور پاک صاف ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلندی والے پاکی والے
علامہ محمد حسین نجفی
بلند مر تبہ (اور) پاک و پاکیزہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو بلند کیے ہوئے،پاک کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
بِاَیۡدِیۡ سَفَرَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معزز اور نیک کاتبوں کے
مولانا محمد جوناگڑھی
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے
احمد رضا خان بریلوی
ایسوں کے ہاتھ لکھے ہوئے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو ایسے کاتبوں کے ہاتھوں سے (لکھے ہوئے) ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
15۔ 1 یعنی اللہ اور رسول کے درمیان ایلچی کا کام کرتے ہیں۔ یہ قرآن سفیروں کے ہاتھوں میں ہے جو اسے لوح محفوظ سے نقل کرتے ہیں۔
(آیت 16،15) ➊ {بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ …: ” سَفَرَةٍ”سَافِرٌ“} کی جمع ہے، لکھنے والا۔ {”سِفْرٌ“} کتاب، اس کی جمع {”أَسْفَارٌ“} ہے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا» ‏‏‏‏ [ الجمعۃ: ۵ ] ”(بے عمل یہود کی مثال) گدھے کی طرح ہے جو کتابیں اٹھائے ہوئے ہو۔“ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لکھنے والوں کی تعریف فرمائی ہے، خواہ وہ فرشتے ہوں یا کاتبین وحی، صحابہ ہوں یا دوسرے، فرمایا یہ لوگ اللہ کے ہاں بہت عزت والے اور نہایت نیک ہیں۔ اس طرح کتابت کے علاوہ اس کا پڑھنا پڑھانا بھی سب سے بہتر اور نیک ہونے کی دلیل ہے، عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهٗ ] [ بخاري، فضائل القرآن، باب خیرکم من تعلّم…: ۵۰۲۷ ] ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“ ➋ {” سَفَرَةٍ”سِفَارَةٌ“} (سفارت) سے بھی مشتق ہو سکتا ہے، تو اس سے مراد فرشتے ہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان سفیر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کے پاس وحی الٰہی لے کر آتے ہیں۔
کِرَامٍۭ بَرَرَۃٍ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہاتھوں میں رہتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جو بزرگ اور پاکباز ہے
احمد رضا خان بریلوی
جو کرم والے نکوئی والے
علامہ محمد حسین نجفی
جو معزز اور نیکوکار ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جو معزز ہیں، نیک ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭

بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ] ‏‏‏‏

سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح] ‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617] ‏‏‏‏ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ»
یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔‏‏‏‏“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔‏‏‏‏“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏ وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔ مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937] ‏‏‏‏
16۔ 1 یعنی خلق کے اعتبار سے وہ کریم یعنی شریف اور بزرگ ہیں اور افعال کے اعتبار سے وہ نیکوکار اور پاکباز ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قُتِلَ الۡاِنۡسَانُ مَاۤ اَکۡفَرَہٗ ﴿ؕ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کی مار انسان پر کیسا ناشکرا ہے
احمد رضا خان بریلوی
آدمی مارا جائیو کیا ناشکر ہے
علامہ محمد حسین نجفی
غارت ہو (منکر) انسان یہ کتنا بڑا ناشکرا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
مارا جائے انسان! وہ کس قدر ناشکرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ:} پچھلی آیات میں ان متکبر لوگوں کا ذکر گزرا ہے جو حق بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں، اب انھی کافروں پر بد دعا کی گئی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏قُتِلَ الْاِنْسَانُ» ‏‏‏‏ ”انسان مارا جائے“ یہ سخت سے سخت بد دعا ہے جو کسی کے لیے کی جا سکتی ہے، کیونکہ دنیا میں سب سے آخری سزا یہ ہے کہ کسی کو ختم ہی کر دیا جائے۔ (زمخشری) ➋ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو بد دعا کرنے کی ضرورت ہی نہیں، تو اس طرح کیوں فرمایا؟ جواب یہ ہے کہ یہ عرب کے اسلوب پر فرمایا ہے جو ان الفاظ میں بد دعا کرتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اتنی نعمتوں کے باوجود یہ انسان جس طرح ناشکری کر رہا ہے اس پر کوئی بھی غور کرے گا تو اس کے منہ سے یہ بد دعا نکلے گی۔ ➌ {” مَاۤ اَكْفَرَهٗ “} کا معنی ہے ”وہ کس قدر ناشکرا ہے!“ دوسرا معنی ہے ”(اتنی نعمتوں کے باوجود) وہ کون سی چیز ہے جس نے اسے ناشکرا بنا دیا ہے؟“ (ابن جریر)
مِنۡ اَیِّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ ﴿ؕ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اسے اللہ نے کس چیز سے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اسے کاہے سے بنایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے اسے کس چیز سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19،18) {مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ…:} یعنی اس شخص کو تکبر اور نا شکری کس طرح زیب دیتی ہے جسے اس کے بنانے والے نے منی کے ایک حقیر قطرے سے پیدا فرمایا؟ پیدا کرنے کے دوران اس کی ہر چیز کا اندازہ مقرر فرمایا کہ اتنی مدت نطفہ رہے گا، پھر علقہ، پھر مضغہ بے روح، پھر جاندار اور خوبصورت انسان بنے گا۔پھر اس کی ہر چیز اندازے کے ساتھ بنائی، کوئی چیز بے ڈھب نہیں۔پھر ماں کے شکم ہی میں وہ سب کچھ فرشتے کو لکھوا دیا جو اس نے زندگی بھر کرنا تھا۔{” فَقَدَّرَهٗ “} میں تینوں چیزیں شامل ہیں۔
مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ؕ خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ ﴿ۙ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی
مولانا محمد جوناگڑھی
(اسے) ایک نطفہ سے، پھر اندازه پر رکھا اس کو
احمد رضا خان بریلوی
پانی کی بوند سے اسے پیدا فرمایا، پھر اسے طرح طرح کے اندازوں پر رکھا
علامہ محمد حسین نجفی
نطفہ سے اسے پیدا کیا ہے اور پھر اس کے اعضاء و جوا رح کا اندازہ مقرر کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ایک قطرے سے، اس نے اسے پیدا کیا، پس اس کا اندازہ مقرر کیا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
19۔ 1 یعنی جس کی پیدائش ایسے حقیر قطرہ آب سے ہوئی ہے، کیا اسے تکبر زیب دیتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ السَّبِیۡلَ یَسَّرَہٗ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کے لئے راستہ آسان کیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے راستہ آسان کیا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر (زندگی کا) راستہ اس کے لئے آسان کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
20۔ 1 یعنی خیر اور شر کے راستے اس کے لئے واضح کردیئے، بعض کہتے ہیں اس سے مراد ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔
(آیت 20){ ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ:} پھر اس کے لیے راستہ آسان کر دیا۔اس کے تین معانی ہو سکتے ہیں، پہلا یہ کہ ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، ورنہ ان تنگ ہڈیوں کے حصار سے نکل ہی نہ سکتا اور وہیں خود بھی مر جاتا اور ماں کی موت کا بھی باعث بنتا، دوسرا یہ کہ خیر و شر میں سے جس راستے پر چلنا چاہے وہی اس کے لیے آسان کر دیا اور تیسرا یہ کہ صحیح راستے کی پہچان اس کے لیے آسان کر دی، جس سے وہ اپنے پیدا کرنے والے پر ایمان لا سکتا ہے۔ تینوں معانی درست ہیں، مگر {” مِنْ نُّطْفَةٍ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ “} کی مناسبت سے پہلا معنی زیادہ صحیح ہے۔ (التسہیل)
ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقۡبَرَہٗ ﴿ۙ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں دفن کیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اسے موت دی پھر قبر میں رکھوایا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کو موت دی پھر اسے قبر میں پہنچایا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اسے موت دی، پھر اسے قبر میں رکھوایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21) { ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗ:} پھر اسے موت دی جو آخرت کی مصلحت کے تحت ضروری تھی، پھر اسے قبر میں رکھوایا، اگر وہ یہ احسان نہ کرتا تو یہ جانوروں کی طرح زمین پر پڑا رہتا، متعفن ہو کر اللہ کی مخلوق کے لیے باعث آزار بنتا۔اس کی بے حرمتی ہوتی، بے پردہ ہوتا اور اسے درندے نوچتے۔ {”قَبَرَهٗ“} قبر میں رکھا اور {”أَقْبَرَهٗ“} قبر میں رکھوایا۔کوئی جل جائے، غرق ہو جائے یا اسے درندے کھا جائیں تو اس کے اجزا جہاں بھی ہیں وہ اس کے لیے قبر ہے۔ اگر کسی کو دفن نہ کیا جا سکے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے قبر نہیں ملی۔
ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنۡشَرَہٗ ﴿ؕ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب چاہے گا اسے زنده کر دے گا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب چاہا اسے باہر نکالا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر جب چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب وہ چاہے گا اسے اٹھا ئے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22) {ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهٗ:} ان تمام قدرتوں کو دیکھ کر کیا یہ تمھاری سمجھ میں نہیں آتا کہ دنیا میں آدمی جو بھی کام کرتا ہے اس کا کوئی نہ کوئی انجام ضرور سوچتا ہے، تو پروردگار نے اتنا بڑا سلسلہ کیا اس لیے پیدا فرمایا ہے کہ کوئی اس اکیلے کی پرستش کرے، کوئی اس کی نعمتوں کو بھول کر بتوں کی پرستش کرتا رہے اور کوئی ظلم کرے یا کسی پر ظلم ہو، مرنے کے بعد سب برابر ہو جائیں؟ نہ اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرکے باز پرس فرمائے اور نہ کسی کو اس کے عمل کا بدلا ملے۔ نہیں، اللہ کے بارے میں یہ سوچنا ہی بے ادبی اور کفران نعمت ہے۔ ان آیات میں اس بے ادبی پر اللہ تعالیٰ نے {” قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗ “} کہہ کر خفگی کا اظہار فرمایا اور سورۂ مومنون میں فرمایا: «‏‏‏‏اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (115) فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ» [ المؤمنون: ۱۱۵، ۱۱۶ ] ”تو کیا تم نے سمجھ لیا کہ ہم نے تمھیں بے مقصد ہی پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے؟ پس اللہ بہت بلند ہے جو سچا بادشاہ ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، عزت والے عرش کا رب ہے۔“
کَلَّا لَمَّا یَقۡضِ مَاۤ اَمَرَہٗ ﴿ؕ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی
احمد رضا خان بریلوی
کوئی نہیں، اس نے اب تک پورا نہ کیا جو اسے حکم ہوا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں (بایں ہمہ) اس نے اسے پورا نہ کیا جس کا (خدا نے) اسے حکم دیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
23۔ 1 یعنی معاملہ اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کافر کہتا ہے۔
(آیت 23) {كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ:كَلَّا “} ہر گز نہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ کافر انسان جو سمجھتا ہے کہ اس کے مال و جان پر اللہ کا جو حق تھا وہ اس نے ادا کر دیا ہے، یہ ہر گز درست نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان نے بھی ابھی تک وہ فرائض ہی پورے ادا نہیں کیے جن کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا، حق کا ادا کرنا تو بہت دور ہے۔ {” لَمْ يَقْضِ “} پورا نہیں کیا۔{” لَمَّا يَقْضِ “} ابھی تک پورا نہیں کیا۔ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: {” لَا يَقْضِيْ أَحَدٌ مَا أُمِرَ بِهٖ “} [ بخاري، التفسیر، باب سورۃ عبس، بعد ح: ۴۹۳۶ ] ”کوئی بھی شخص وہ کام پورا نہیں کرتا جس کا اسے حکم دیا گیا ہے (کمی رہ ہی جاتی ہے)۔“
فَلۡیَنۡظُرِ الۡاِنۡسَانُ اِلٰی طَعَامِہٖۤ ﴿ۙ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان کو چاہئے کہ اپنے کھانے کو دیکھے
احمد رضا خان بریلوی
تو آدمی کو چاہیے اپنے کھانوں کو دیکھے
علامہ محمد حسین نجفی
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی غذا کی طرف دیکھے۔
عبدالسلام بن محمد
تو انسان کو لازم ہے کہ اپنے کھانے کی طرف دیکھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
24۔ 1 کہ اسے اللہ نے کس طرح پیدا کیا، جو اس کی زندگی کا سبب ہے اور کس طرح اس کے لئے اسباب معاش مہیا کئے تاکہ وہ ان کے ذریعے سعادت آخروی حاصل کرسکے۔
(آیت 25،24){ فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ …:} پہلے آیت (۱۷) سے (۲۲) تک ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جو انسان کی پیدائش اور اس کی ذات سے تعلق رکھتی تھیں، اب ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اس کی ذات سے تو تعلق نہیں رکھتیں مگر ان کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ سکتا۔فرمایا اپنی قریب ترین چیز کھانے ہی کو دیکھ لو کہ اس کی تیاری کے لیے ہم نے کائنات کی کتنی قوتوں کو مصروف کر رکھا ہے۔ {” اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا “} میں مصدر کے ساتھ فعل کی تاکید فرمائی۔ ترجمہ میں اس تاکید کو ”خوب برسانا “ کے الفاظ سے ادا کیا گیا ہے۔
اَنَّا صَبَبۡنَا الۡمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے خوب پانی لنڈھایا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ ہم نے خوب پانی برسایا
احمد رضا خان بریلوی
کہ ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے اچھی طرح خوب پانی برسایا۔
عبدالسلام بن محمد
کہ ہم نے پانی برسایا، خوب برسانا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ شَقَقۡنَا الۡاَرۡضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر پھاڑا زمین کو اچھی طرح
احمد رضا خان بریلوی
پھر زمین کو خوب چیرا،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے زمین کو اچھی طرح شگافتہ کیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھرہم نے زمین کو پھاڑا، ایک عجیب طریقے سے پھاڑنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 26){ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا:شَقًّا “} ایک قسم کا پھاڑنا، یعنی زمین کو ہم نے عجیب طریقے سے پھاڑا۔ دانے سے نمودار ہونے والی کونپل خود کبھی زمین سے باہر نہیں نکل سکتی تھی، زمین میں ضرورت کے مطابق نرمی و نمی اور بیج میں یہ طاقت ہم نے رکھی کہ وہ زمین پھاڑ کر باہر نکل آیا۔
فَاَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا حَبًّا ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اُس کے اندر اگائے غلے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس میں سے اناج اگائے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس میں اُگایا اناج،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے اس میں غلے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر ہم نے اس میں اناج اگایا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28،27) {فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا …: ” قَضْبًا”قَضَبَ يَقْضِبُ“} (ض) (کاٹنا) کا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی زمین کی وہ پیداوار جو سال میں کئی مرتبہ کاٹی جاتی ہے، مراد ترکاری ہے۔ وہ چارے بھی اس میں آجاتے ہیں جو بار بار کاٹے جاتے ہیں۔
وَّ عِنَبًا وَّ قَضۡبًا ﴿ۙ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور انگور اور ترکاریاں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انگور اور ترکاری
احمد رضا خان بریلوی
اور انگور اور چارہ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور انگور اور ترکاریاں اگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انگور اور ترکاری۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ زَیۡتُوۡنًا وَّ نَخۡلًا ﴿ۙ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زیتون اور کھجوریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زیتون اور کھجور
احمد رضا خان بریلوی
اور زیتون اور کھجور،
علامہ محمد حسین نجفی
اور زیتون اور کجھوریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زیتون اور کھجور کے درخت۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29) {وَ زَيْتُوْنًا وَّ نَخْلًا:نَخْلًا “} کھجور کے درخت۔ کھجور کے پھل کے لیے دوسرے الفاظ ہیں، مثلاً {”تَمْرٌ“} وغیرہ۔
وَّ حَدَآئِقَ غُلۡبًا ﴿ۙ۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور گھنے باغ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور گنجان باغات
احمد رضا خان بریلوی
اور گھنے باغیچے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور گھنے باغ۔
عبدالسلام بن محمد
اور گھنے باغات۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30){ وَ حَدَآىِٕقَ غُلْبًا:حَدَآىِٕقَ”حَدِيْقَةٌ“} کی جمع ہے، پھل دار درختوں کا باغ جس کے گرد دیوار ہو۔ {”حَدَقَ يَحْدِقُ“ } (ض) گھیرنا۔{” غُلْبًا”أَغْلَبُ“} اور{”غَلْبَاءُ“ } کی جمع ہے۔ {”غَلِبَ يَغْلَبُ“} (س) موٹی گردن والا ہونا، مراد گھنے باغ۔
وَّ فَاکِہَۃً وَّ اَبًّا ﴿ۙ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور طرح طرح کے پھل، اور چارے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور میوه اور (گھاس) چاره (بھی اگایا)
احمد رضا خان بریلوی
اور میوے اور دُوب (گھاس)
علامہ محمد حسین نجفی
اور میوے اور چارا۔
عبدالسلام بن محمد
اور پھل اور چارا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 31) {وَ فَاكِهَةً وَّ اَبًّا:” اَبًّا “} زمین سے اگنے والی وہ نباتات جسے جانور کھاتے ہیں، لوگ نہیں کھاتے۔ (طبری عن ابن عباس وغیرہ) یہ{”أَبَّ“} (ن) (قصد کرنا) سے مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی ”قصد کیا ہوا“ کیونکہ جانور اس کی طرف لپکتے ہیں۔
مَّتَاعًا لَّکُمۡ وَ لِاَنۡعَامِکُمۡ ﴿ؕ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے استعمال وفائدے کے لئے اور تمہارے چوپایوں کے لئے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے فائدے کو اور تمہارے چوپایوں کے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو تمہارے اور تمہارے مویشوں کیلئے سامانِ زندگی کے طور پر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے زندگی کا سامان۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ریڑھ کی ہڈی اور تخلیق ثانی ٭٭

جو لوگ مرنے کے بعد جی اٹھنے کے انکاری تھے ان کی یہاں مذمت بیان ہو رہی ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”یعنی انسان پر لعنت ہو یہ کتنا بڑا ناشکر گزار ہے“، اور یہ بھی معنی بیان کئے گئے ہیں کہ عموماً تمام انسان جھٹلانے والے ہیں بلا دلیل محض اپنے خیال سے ایک چیز کو ناممکن جان کر باوجود علمی سرمایہ کی کمی کے جھٹ سے اللہ کی باتوں کی تکذیب کر دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس جھٹلانے پر کون سی چیز آمادہ کرتی ہے؟ اس کے بعد اس کی اصلیت جتائی جاتی ہے کہ وہ خیال کرے کہ کس قدر حقیر اور ذلیل چیز سے اللہ نے اسے بنایا ہے، کیا وہ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قدرت نہیں رکھتا؟ اس نے انسان کو منی کے قطرے سے پیدا کیا پھر اس کی تقدیر مقدر کی یعنی عمر، روزی، عمل اور نیک و بد ہونا لکھا۔ پھر اس کے لیے ماں کے پیٹ سے نکلنے کا راستہ آسان کر دیا، اور یہ بھی معنی ہیں کہ ہم نے اپنے دین کا راستہ آسان کر دیا یعنی واضح اور ظاہر کر دیا۔ جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا» ۱؎ [76-الإنسان:3] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم نے اسے راہ دکھائی پھر یا تو وہ شکر گزار بنے یا ناشکرا ‘۔ حسن اور ابن زید رحمہ اللہ علیہم اسی کو راجح بتاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اس کی پیدائش کے بعد پھر اسے موت دی اور پھر قبر میں لے گیا۔ عرب کا محاورہ ہے کہ وہ جب کسی کو دفن کریں تو کہتے ہیں «قبرت الرَّجُلَ» اور کہتے ہیں «اقبَرُہُ اللہ» اسی طرح کے اور بھی محاورے ہیں مطلب یہ ہے کہ ’ اب اللہ نے اسے قبر والا بنا دیا ‘۔ پھر جب اللہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر دے گا، اسی کی زندگی کو «بعث» بھی کہتے ہیں اور «نشور» بھی، جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ اِذَآ اَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُوْنَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [30-الروم:20] ‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر تم انسان بن کر اٹھ بیٹھے ‘۔ اور جگہ ہے «كَيْفَ نُنْشِزُھَا ثُمَّ نَكْسُوْھَا لَحْــمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [2-البقرة:259] ‏‏‏‏ ’ ہڈیوں کو دیکھو کہ ہم کس طرح انہیں اٹھاتے بٹھاتے ہیں، پھر کس طرح انہیں گوشت چڑھاتے ہیں ‘۔

ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان کے تمام اعضاء وغیرہ کو مٹی کھا جاتی ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کو نہیں کھاتی، لوگوں نے کہا، وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رائی کے دانے کے برابر ہے اسی سے پھر تمہاری پیدائش ہوگی“ }۔ ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ اصل صحیح:صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ یہ حدیث بغیر سوال و جواب کی زیادتی کے بخاری مسلم میں بھی ہے کہ { ابن آدم گل سڑ جاتا ہے مگر ریڑھ کی ہڈی کہ اسی سے پیدا کیا گیا ہے اور اسی سے پھر ترکیب دیا جائے گا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935] ‏‏‏‏ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس طرح یہ ناشکرا اور بے قدر انسان کہتا ہے کہ اس نے اپنی جان و مال میں اللہ کا جو حق تھا وہ ادا کر دیا لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ بلکہ ابھی تو اس نے فرائض اللہ سے بھی سبکدوشی حاصل نہیں کی ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ”کسی شخص سے اللہ تعالیٰ کے فرائض کی پوری ادائیگی نہیں ہو سکتی۔‏‏‏‏“ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی معنی مروی ہیں، متقدمین میں سے میں نے تو اس کے سوا کوئی اور کلام نہیں پایا، ہاں مجھے اس کے یہ معنی معلوم ہوتے ہیں کہ فرمان باری کا یہ مطلب ہے کہ پھر جب چاہے دوبارہ پیدا کرے گا، اب تک اس کے فیصلے کے مطابق وقت نہیں آیا۔ یعنی ابھی ابھی وہ ایسا نہیں کرے گا یہاں تک کہ مدت ختم ہو اور بنی آدم کی تقدیر پوری ہو۔

ان کی قسمت میں اس دنیا میں آنا اور یہاں برا بھلا کرنا وغیرہ جو مقدر ہو چکا ہے۔ وہ سب اللہ کے اندازے کے مطابق پورا ہو چکے اس وقت وہ خلاق کل دوبارہ زندہ کر دے گا اور جیسے کہ پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب دوسری دفعہ پھر پیدا کر دے گا۔ ابن ابی حاتم میں وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ عزیز علیہ السلام نے فرمایا ”میرے پاس ایک فرشتہ آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ قبریں زمین کا پیٹ ہیں اور زمین مخلوق کی ماں ہے جب کہ کل مخلوق پیدا ہو چکے گی پھر قبروں میں پہنچ جائے گی اس وقت دنیا کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور جو بھی زمین پر ہوں گے سب مر جائیں گے۔ اور زمین میں جو کچھ ہے اسے زمین اگل دے گی اور قبروں میں جو مردے ہیں سب باہر نکال دئیے جائیں گے۔‏‏‏‏“ یہ قول ہم اپنی اس تفسیر کی دلیل میں پیش کر سکتے ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ میرے اس احسان کو دیکھیں کہ میں نے انہیں کھانا دیا، اس میں بھی دلیلیں ہے موت کے بعد جی اٹھنے کی کہ جس طرح خشک غیر آباد زمین سے ہم نے تروتازہ درخت اگائے اور ان سے اناج وغیرہ پیدا کر کے تمہارے لیے کھانا مہیا کیا اسی طرح گلی سڑی کھوکھلی اور چورا چورا ہڈیوں کو بھی ہم ایک روز زندہ کر دیں گے اور انہیں گوشت پوست پہنا کر دوبارہ تمہیں زندہ کر دیں گے۔ تم دیکھ لو کہ ہم نے آسمان سے برابر پانی برسایا پھر اسے ہم نے زمین میں پہنچا کر ٹھہرا دیا وہ بیج میں پہنچا اور زمین میں پڑے ہوئے دانوں میں سرایت کی جس سے وہ دانے اگے، درخت پھوٹا، اونچا ہوا اور کھیتیاں لہلہانے لگیں، کہیں اناج پیدا ہوا، کہیں انگور اور کہیں ترکاریاں ‘۔ «حَبًّ» کہتے ہیں کہ ہر دانے کو، «عِنَبً» کہتے ہیں انگور کو اور «قَضْبً» کہتے ہیں اس سبز چارے کو جسے جانور کھاتے ہیں اور زیتون پیدا کیا جو روٹی کے ساتھ سالن کا کام دیتا ہے، جلایا جاتا ہے، تیل نکالا جاتا ہے، اور کھجوروں کے درخت پیدا کئے جو گدرائی ہوئی بھی کھائی جاتی ہیں، تر بھی کھائی جاتی ہے اور خشک بھی کھائی جاتی ہے اور پکی بھی اور اس کا شیرہ اور سرکہ بھی بنایا جاتا ہے اور باغات پیدا کئے۔ «غُلْبًا» کے معنی کھجوروں کے بڑے بڑے میوہ دار درخت ہیں۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں ہر اس باغ کو جو گھنا، خوب ہرا بھرا، گہرے سائے والا اور بڑے بڑے درختوں والا ہو، موٹی گردن والے آدمی کو بھی عرب «اغلب» کہتے ہیں، اور میوے پیدا کئے اور «أَبًّ» کہتے ہیں زمین کی اس سبزی کو جسے جانور کھاتے ہیں اور انسان اسے نہیں کھاتے، جیسے گھاس پات وغیرہ، «أَبًّ» جانوروں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا انسان کے لیے «فَاكِهَةً» یعنی پھل، میوہ۔

عطاء رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”زمین پر جو کچھ اگتا ہے اسے «أَبًّ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏“ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”سوائے میوؤں کے باقی سب «أَبًّ» ‏‏‏‏ہے۔‏‏‏‏“ ابو السائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں ” «أَبًّ» آدمی کے کھانے میں بھی آتا ہے اور جانور کے کھانے میں بھی۔‏‏‏‏“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس بابت سوال ہوتا ہے تو فرماتے ہیں ”کون سا آسمان مجھے اپنے تلے سایہ دے گا اور کون سی زمین مجھے اپنی پیٹھ پر اٹھائے گی، اگر میں کتاب اللہ میں کہوں جس کا مجھے علم نہ ہو“، لیکن یہ اثر منقطع ہے، ابراہیم تیمی نے سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ہاں البتہ صحیح سند سے ابن جریر میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے منبر پر سورۃ عبس پڑھی اور یہاں تک پہنچ کر کہا کہ «فَاكِهَةً» کو تو ہم جانتے ہیں لیکن یہ «أَبًّ» ‏‏‏‏ کیا چیز ہے؟ پھر خود ہی فرمانے لگے ”اس تکلیف کو چھوڑ۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:451/12] ‏‏‏‏ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کی شکل و صورت اور اس کی تعیین معلوم نہیں ورنہ اتنا تو صرف آیت کے پڑھنے سے ہی صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ زمین سے اگنے والی ایک چیز ہے کیونکہ پہلے یہ لفظ موجود ہے «‏‏‏‏فَاَنْبَتْنَا فِيْهَا» ۱؎ ‏‏‏‏ [31-لقمان:10] ‏‏‏‏۔ پھر اللہ فرماتا ہے ’ تمہاری زندگی کے قائم رکھنے، تمہیں فائدہ پہنچانے اور تمہارے جانووں کے لیے ہے کہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور تم اس سے فیضیاب ہوتے رہو گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 32){ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ:} کائنات کا یہ عظیم الشان سلسلہ اور یہ تمام چیزیں تمھاری اور تمھارے ہی کام آنے والے جانوروں کی زندگی کے سامان کے لیے بنائی گئی ہیں۔ اب اپنے کفران نعمت کو دیکھو کہ میں تمھاری خاطر یہ سب کچھ بنا سکتا ہوں مگر تمھارے خیال میں تمھیں مرنے کے بعد زندہ نہیں کر سکتا۔ نہیں، میں تمھیں ضرور دوبارہ زندہ کروں گا۔ آگے قیامت کا ذکر فرمایا۔
فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّۃُ ﴿۫۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب کہ کان بہرے کر دینے والی (قیامت) آجائے گی
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب آئے گی وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑ
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آجائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پس جب کانوں کو بہرا کرنے والی ( قیامت) آجائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔
33۔ 1 یعنی قیامت وہ ایک نہایت سخت چیخ کے ساتھ واقع ہوگی جو کانوں کو بہرہ کر دے گی۔
(آیت 33){ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ:الصَّآخَّةُ “} یعنی کانوں کو بہرا کر دینے والی نفخ صور کی ہولناک آواز جس سے قیامت قائم ہو جائے گی۔
یَوۡمَ یَفِرُّ الۡمَرۡءُ مِنۡ اَخِیۡہِ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز آدمی اپنے بھائی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن آدمی اپنے بھائی سے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی،
علامہ محمد حسین نجفی
تو اس دن آدمی اپنے بھائی سے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34تا36) ➊ { يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ …:} اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن آدمی کے ان لوگوں سے بھاگنے کا ذکر فرمایا جن سے محبت ہوتی ہے اور ترتیب میں محبت کے درجات کو ملحوظ رکھا، پہلے اس کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ کم محبت ہوتی ہے، بڑھتے بڑھتے آخر میں بیٹوں کا ذکر فرمایا جن کے ساتھ مقدم الذکر تمام لوگوں سے زیادہ محبت ہوتی ہے۔ (التسہیل) جب اپنے پیاروں سے بھاگے گا تو دوسروں کا کیا ذکر؟ ➋ سورۂ معارج میں اس کے برعکس بیٹوں سے شروع کیا اور فرمایا کہ مجرم کی دلی خواہش ہوگی کہ اس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنے بیٹوں کو، اپنی بیوی کو، اپنے بھائی کو اور اپنے پناہ دینے والے قبیلے بلکہ تمام دنیا کے لوگوں کو فدیہ میں دے کر اپنی جان بچالے۔ دیکھیے سورۂ معارج (۱۰ تا ۱۴)۔ ➌ بھاگنے کی وجہ وقوع قیامت کی وجہ سے پیدا ہونے والی گھبراہٹ اور بدحواسی ہے، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر باقی انبیاء علیھم السلام بھی {”نَفْسِيْ نَفْسِيْ“} کہیں گے۔ اس کے علاوہ یہ خوف ہوگا کہ رشتہ دار کوئی حق نہ مانگ لے، اس کے خلاف کوئی شہادت نہ پیش کر دے اور ظلم کے بدلے میں اس کے گناہ نہ اٹھانے پڑ جائیں وغیرہ۔
وَ اُمِّہٖ وَ اَبِیۡہِ ﴿ۙ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اپنی ماں اور اپنے باپ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے
احمد رضا خان بریلوی
اور ماں اور باپ،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی ماں اور اپنے باپ (سے).
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ صَاحِبَتِہٖ وَ بَنِیۡہِ ﴿ؕ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنی بیوی اور اپنی اوﻻد سے بھاگے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور جُورو اور بیٹوں سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ننگے پاؤں، ننگے بدن ، پسینے کا لباس ٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ «صَّاخَّةُ» قیامت کا نام ہے اور اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نفخہ کی آواز اور ان کا شوروغل کانوں کے پردے پھاڑ دے گا۔ اس دن انسان اپنے ان قریبی رشتہ داروں کو دیکھے گا لیکن بھاگتا پھرے گا کوئی کسی کے کام نہ آئے گا، میاں بیوی کو دیکھ کر کہے گا کہ بتا تیرے ساتھ میں نے دنیا میں کیسا کچھ سلوک کیا وہ کہے گی کہ بے شک آپ نے میرے ساتھ بہت ہی اچھا سلوک کیا بہت پیار محبت سے رکھا یہ کہے گا کہ آج مجھے ضرورت ہے صرف ایک نیکی دے دو تاکہ اس آفت سے چھوٹ جاؤں، تو وہ جواب دے گی کہ سوال تھوڑی سی چیز کا ہی ہے مگر کیا کروں یہی ضرورت مجھے درپیش ہے اور اسی کا خوف مجھے لگ رہا ہے میں تو نیکی نہیں دے سکتی، بیٹا باپ سے ملے گا یہی کہے گا اور یہی جواب پائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لِکُلِّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ یَوۡمَئِذٍ شَاۡنٌ یُّغۡنِیۡہِ ﴿ؕ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایسی فکر (دامنگیر) ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
ان میں سے ہر ایک کو اس دن ایک فکر ہے کہ وہی اسے بس ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن ان میں ہر شخص کا یہ عالم ہوگا جو اسے سب سے بےپروا کر دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن ان میں سے ہر شخص کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے ( دوسروں سے) بے پروا بنا دے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
37۔ 1 یا اپنے اقربا اور احباب سے بےنیاز اور بےپروا کر دے گا حدیث میں آتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب لوگ میدان محشر میں ننگے بدن ننگے پیر، پیدل اور بغیر ختنے کئے ہوئے ہوں گے۔
(آیت 37){ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ …:} عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ تُحْشَرُوْنَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلاً، قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلٰی بَعْضٍ؟ فَقَالَ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يُّهِمَّهُمْ ذَاكِ ] [ بخاري، الرقاق، باب کیف الحشر: ۶۵۲۷ ] ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم، بغیر ختنہ کی حالت میں اٹھائے جاؤ گے۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! پھر تو مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو دیکھیں گے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معاملہ اس سے سخت ہوگا کہ یہ بات ان کی سوچ میں بھی آئے۔“ ترمذی میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی اس حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر یہ آیت پڑھی: «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ» [ عبس: ۳۷ ] ”اس دن ان میں سے ہر آدمی کی ایک ایسی حالت ہوگی جو اسے دوسروں سے بے پروا بنا دے گی۔“ [ ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس: ۳۳۳۲، قال الشیخ الألبانی حسن صحیح ]
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ مُّسۡفِرَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کتنے منہ اس دن روشن ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39،38) {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ مُّسْفِرَةٌ …:} چہروں کی یہ روشنی اور خوشی اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جانے کے بعد ہوگی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ (7) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا (8) وَّ يَنْقَلِبُ اِلٰۤى اَهْلِهٖ مَسْرُوْرًا» ‏‏‏‏ [ الانشقاق: 7 تا۹ ] ”تو اس وقت جس شخص کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس کا حساب آسان لیا جائے گا اور وہ خوش خوش اپنے گھروالوں کی طرف واپس آئے گا۔“
ضَاحِکَۃٌ مُّسۡتَبۡشِرَۃٌ ﴿ۚ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
(جو) ہنستے ہوئے اور ہشاش بشاش ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
ہنستے خوشیاں مناتے
علامہ محمد حسین نجفی
خنداں و شاداں (اور خوش و خرم) ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ہنستے ہوئے، بہت خوش۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
39۔ 1 یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے، جنہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ملیں گے، جس سے انہیں اپنی آخروی سعادت و کامیابی کا یقین ہوجائے گا، جس سے ان کے چہرے خوشی سے ٹمٹماتے رہے ہونگے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ عَلَیۡہَا غَبَرَۃٌ ﴿ۙ۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت سے چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنے مونہوں پر اس دن گرد پڑی ہوگی،
علامہ محمد حسین نجفی
ور کچھ چہرے ایسے ہوں گے جن پر گرد و غبار پڑی ہوئی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور کچھ چہرے، اس دن ان پر ایک غبار ہوگا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 40تا42){ وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ …:} کافر اور فاجر لوگوں کے چہروں پر سیاہی کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت(۲۷) کی تفسیر۔
تَرۡہَقُہَا قَتَرَۃٌ ﴿ؕ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
جن پر سیاہی چڑھی ہوئی ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
ان پر سیاہی چڑھ رہی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان پر سیاہی چھائی ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
ان کو سیاہی ڈھانپتی ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
41۔ 1 یعنی ذلت اور عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہونگے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکَفَرَۃُ الۡفَجَرَۃُ ﴿٪۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہی کافر و فاجر لوگ ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه یہی کافر بدکردار لوگ ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
یہ وہی ہیں کافر بدکار،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہی لوگ کافر و فاجر ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی ہیں جو کافر ہیں ، نافرمان ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صحیح حدیث میں شفاعت کا بیان فرماتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اولولعزم پیغمبروں سے لوگ شفاعت کی طلب کریں گے اور ان میں سے ہر ایک یہی کہے گا «نَفْسِي نَفْسِي» یہاں تک کہ عیسیٰ روح اللہ علیہ صلوات اللہ بھی یہی فرمائیں گے کہ آج میں اللہ کے سوائے اپنی جان کے اور کسی کے لیے کچھ نہ کہوں گا میں تو آج اپنی والدہ مریم علیہا السلام کیلئے بھی کچھ نہ کہوں گا جن کے بطن سے میں پیدا ہوا ہوں، الغرض دوست دوست سے، رشتہ دار رشتہ دار سے منہ چھپاتا پھرے گا۔ ہر ایک آپا دھاپی میں لگا ہو گا، کسی کو دوسرے کا ہوش نہ ہوگا“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”تم ننگے پیروں ننگے بدن اور بے ختنہ اللہ کے ہاں جمع کیے جاؤ گے۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی صاحبہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! پھر تو ایک دوسروں کی شرمگاہوں پر نظریں پڑیں گی؟ فرمایا: ”اس روز گھبراہٹ کا حیرت انگیز ہنگامہ ہر شخص کو مشغول کیے ہوئے ہو گا، بھلا کسی کو دوسرے کی طرف دیکھنے کا موقعہ اس دن کہاں؟“ ۱؎ [نسائی فی التفسیر:667:صحیح] ‏‏‏‏ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسی آیت «لِكُلِّ امرِئٍ مِنهُم يَومَئِذٍ شَأنٌ يُغنيهِ» کی تلاوت فرمائی ۱؎ [سنن ترمذي:3332،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح] ‏‏‏‏ دوسری روایت میں ہے کہ یہ بیوی صاحبہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں [تفسیر ابن جریر الطبری:36392:ضعیف] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ { ایک دن سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں ایک بات پوچھتی ہوں ذرا بتا دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں جانتا ہوں تو ضرور بتاؤں گا۔‏‏‏‏“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کا حشر کس طرح ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ننگے پیروں اور ننگے بدن“، تھوڑی دیر کے بعد پوچھا: کیا عورتیں بھی اسی حالت میں ہوں گی؟ فرمایا: ”ہاں“، یہ سن کر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا افسوس کرنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! اس آیت کو سن لو پھر تمہیں اس کا کوئی رنج و غم نہ رہے گا کہ کپڑے پہنے یا نہیں؟“ پوچھا: اے اللہ کے رسول! وہ آیت کون سی ہے فرمایا: ” «لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ» “ [80-عبس:37] ‏‏‏‏ } ۱؎ [سنن نسائی:2083:صحیح] ‏‏‏‏ ایک روایت میں ہے کہ { ام المؤمنین سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: یہ سن کر کہ لوگ اس طرح ننگے بدن، ننگے پاؤں، بے ختنہ جمع کیے جائیں گے پسینے میں غرق ہوں گے کسی کے منہ تک پسینہ پہنچ جائے گا اور کسی کے کانوں تک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر سنائی }۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:564/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ وہاں لوگوں کے دو گروہ ہوں گے بعض تو وہ ہوں گے جن کے چہرے خوشی سے چمک رہے ہوں گے، دل خوشی سے مطمئن ہوں گے، منہ خوبصورت اور نورانی ہوں گے یہ تو جنتی جماعت ہے، دوسرا گروہ جہنمیوں کا ہو گا ان کے چہرے سیاہ ہوں گے، گرد آلود ہوں گے ‘۔ حدیث میں ہے کہ { ان کا پسینہ مثل لگام کے ہو رہا ہو گا پھر گردوغبار پڑا ہوا ہو گا }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ ’ جن کے دلوں میں کفر تھا اور اعمال میں بدکاری تھی ‘، جیسے اور جگہ ہے «وَلَا يَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا» ۱؎ [71-نوح:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کفار کی اولاد بھی بدکار کافر ہی ہوگی ‘۔ سورۃ عبس کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
42۔ 1 یعنی اللہ کا، رسولوں کا اور قیامت کا انکار کرنے والے بھی تھے اور بدکردار بداطوار بھی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔