بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: مشروبات (پینے والی چیزوں) کے احکام و مسائل باب: نبیذ کے سلسلے میں ابراہیم نخعی کے شاگردوں کے اختلاف کا ذکر۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 5750 سنن نسائی
أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ ، الْقَوَارِيرِيُّ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو ، فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو ، إِبْرَاهِيمَ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ مَنْ شَرِبَ شَرَابًا فَسَكِرَ مِنْهُ لَمْ يَصْلُحْ لَهُ أَنْ يَعُودَ فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال تھا کہ جو شخص کوئی مشروب پیے اور اس سے نشہ آ جائے تو اس کے لیے درست نہیں کہ وہ دوبارہ اسے پیے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5750]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18425) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 5751 سنن نسائی
سُوَيْدُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، سُفْيَانَ ، مُغِيرَةَ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ:" لَا بَأْسَ بِنَبِيذِ الْبُخْتُجِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ پختہ (پکا ہوا) شیرہ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18426) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، سفيان الثوري و مغيرة عنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 369
الحكم: صحيح الإسناد
حدیث نمبر: 5752 سنن نسائی
سُوَيْدُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَبِي عَوَانَةَ ، أَبِي مِسْكِينٍ ، إِبْرَاهِيمَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ , قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ , قُلْتُ: إِنَّا نَأْخُذُ دُرْدِيَّ الْخَمْرِ , أَوِ الطِّلَاءِ , فَنُنَظِّفُهُ ثُمَّ نَنْقَعُ فِيهِ الزَّبِيبَ ثَلَاثًا , ثُمَّ نُصَفِّيهِ ثُمَّ نَدَعُهُ حَتَّى يَبْلُغَ , فَنَشْرَبُهُ , قَالَ:" يُكْرَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا: ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مکروہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18427) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 5753 سنن نسائی
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، ابْنِ شُبْرُمَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ , عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ , قَالَ:" رَحِمَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ شَدَّدَ النَّاسُ فِي النَّبِيذِ وَرَخَّصَ فِيهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ابراہیم نخعی پر رحم کرے، لوگ نبیذ کے سلسلے میں سختی کرتے ہیں اور وہ اس کی اجازت دیتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5753]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18428) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 5754 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبِي أُسَامَةَ ، ابْنَ الْمُبَارَكِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي أُسَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُبَارَكِ , يَقُولُ:" مَا وَجَدْتُ الرُّخْصَةَ فِي الْمُسْكِرِ عَنْ أَحَدٍ صَحِيحًا إِلَّا عَنْ إِبْرَاهِيمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی سے نشہ لانے والی چیز کی رخصت صحیح روایت کے ساتھ نہیں سنی سوائے ابراہیم نخعی کے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5754]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18429) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع
حدیث نمبر: 5755 سنن نسائی
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبَا أُسَامَةَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُسَامَةَ , يَقُولُ:" مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَطْلَبَ لِلْعِلْمِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ , الشَّامَاتِ , وَمِصْرَ , وَالْيَمَنَ , وَالْحِجَازَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبیداللہ بن سعید بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابواسامہ کو کہتے ہوئے سنا: میں نے کسی شخص کو عبداللہ بن مبارک سے زیادہ علم کا طالب شام، مصر، یمن اور حجاز میں نہیں دیکھا۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5755]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18941) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح الإسناد مقطوع