سُوَيْدُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَبِي عَوَانَةَ ، أَبِي مِسْكِينٍ ، إِبْرَاهِيمَ
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ , قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ , عَنْ أَبِي عَوَانَةَ , عَنْ أَبِي مِسْكِينٍ , قَالَ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ , قُلْتُ: إِنَّا نَأْخُذُ دُرْدِيَّ الْخَمْرِ , أَوِ الطِّلَاءِ , فَنُنَظِّفُهُ ثُمَّ نَنْقَعُ فِيهِ الزَّبِيبَ ثَلَاثًا , ثُمَّ نُصَفِّيهِ ثُمَّ نَدَعُهُ حَتَّى يَبْلُغَ , فَنَشْرَبُهُ , قَالَ:" يُكْرَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابومسکین کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم نخعی سے پوچھا: ہم لوگ خمر (شراب) یا طلاء کا تل چھٹ لیتے ہیں، پھر اسے صاف کر کے اس میں تین روز تک کشمش بھگوتے ہیں، پھر ہم اسے صاف کرتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی حد کو پہنچ جائے، پھر ہم اسے پیتے ہیں، انہوں نے کہا: وہ مکروہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأشربة/حدیث: 5752]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 18427) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني
حسن الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: حسن الإسناد مقطوع