بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: استعاذہ (بری چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگنے) کے آداب و احکام باب: زمین میں دھنس جانے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 5531 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَهُوَ الْخَسْفُ، قَالَ عُبَادَةُ: فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 110 (5074)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3871)، (تحفة الأشراف: 6673)، مسند احمد (2/25)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 181 (566) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 5532 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ ، جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ هُوَ ابْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ الْفَزَارِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ" , فَذَكَرَ الدُّعَاءَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي" , يَعْنِي بِذَلِكَ الْخَسْفَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہتے تھے: «اللہم» اے اللہ! پھر انہوں نے دعا کا ذکر کیا جس کے آخر میں یہ کہا: «أعوذ بك أن أغتال من تحتي‏» میں تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں نیچے کی طرف سے کسی مصیبت میں پھنس جاؤں اس سے آپ (زمین میں) دھنس جانا مراد لیتے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5532]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح