عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، ابْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي"، قَالَ جُبَيْرٌ: وَهُوَ الْخَسْفُ، قَالَ عُبَادَةُ: فَلَا أَدْرِي قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوْ قَوْلُ جُبَيْرٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: «اللہم إني أعوذ بعظمتك أن أغتال من تحتي» ”اے اللہ! میں تیری عظمت اور بڑائی کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں نیچے کی طرف سے کسی آفت میں پھنس جاؤں“۔ یہ حدیث مختصر ہے۔ جبیر کہتے ہیں: اس سے مراد زمین میں دھنس جانا ہے۔ عبادہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قول ہے یا جبیر کا۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5531]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 110 (5074)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 14 (3871)، (تحفة الأشراف: 6673)، مسند احمد (2/25)، والمؤلف في عمل الیوم واللیلة 181 (566) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح