هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ ، إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ ، أَبِي رِمْثَةَ
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي، فَقَالَ:" مَنْ هَذَا مَعَكَ؟" , قَالَ: ابْنِي , أَشْهَدُ بِهِ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَلَا يَجْنِي عَلَيْكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورمثہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ نے فرمایا: ”یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟“ اس نے کہا: یہ میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا قصور اس پر نہیں اور اس کا قصور تم پر نہیں“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الدیات2(4208)، (تحفة الأشراف: 12037)، مسند احمد (4/163) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی تم دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کے جرم میں ماخوذ نہیں کیا جائے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح