بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4841 — باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟
کتب سنن نسائی کتاب: قسامہ، قصاص اور دیت کے احکام و مسائل باب: کیا کسی کو دوسرے کے جرم میں گرفتار کیا جا سکتا ہے؟ حدیث 4841
حدیث نمبر: 4841 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
قُتَيْبَةُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَبِيهِ ، رَجُلٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعٍ الَّذِينَ أَصَابُوا فُلَانًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَعْنِي لَا تَجْنِي نَفْسٌ عَلَى نَفْسٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بنی ثعلبہ بن یربوع کے ایک شخص کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، آپ گفتگو فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! یہ بنی ثعلبہ بن یربوع ہیں جنہوں نے فلاں کو قتل کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یعنی کسی کا قصور کسی پر نہیں ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 4837 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4840) باب پر واپس اگلی حدیث (4842) →