قُتَيْبَةُ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، ابْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ ابْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كُنْتُ أَبِيعُ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ , أَوِ الْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ , فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ , فَقَالَ:" إِذَا بَايَعْتَ صَاحِبَكَ فَلَا تُفَارِقْهُ وَبَيْنَكَ وَبَيْنَهُ لَبْسٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں چاندی کے بدلے سونا یا سونے کے بدلے چاندی بیچتا تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنے ساتھی سے بیچو تو اس سے الگ نہ ہو جب تک تمہارے اور اس کے درمیان کوئی چیز باقی رہے (یعنی حساب بے باق کر کے الگ ہو)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4587]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: ضعيف