عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ زُغْبَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ خَبَّابٍ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ لَحْمًا مِنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: مَا أَنَا بِآكِلِهِ حَتَّى أَسْأَلَ، فَانْطَلَقَ إِلَى أَخِيهِ لِأُمِّهِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا , فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّهُ قَدْ حَدَثَ بَعْدَكَ أَمْرٌ نَقْضًا لِمَا كَانُوا نُهُوا عَنْهُ مِنْ أَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن خباب سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ایک سفر سے آئے تو ان کے گھر والوں نے انہیں قربانی کے گوشت میں سے کچھ پیش کیا، انہوں نے کہا: میں اسے نہیں کھا سکتا جب تک کہ معلوم نہ کر لوں، چنانچہ وہ اپنے اخیافی بھائی قتادہ بن نعمان کے پاس گئے (وہ بدری صحابی تھے) اور ان سے اس بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: تمہارے بعد نیا حکم ہوا جس سے تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے پر سے پابندی ہٹ گئی۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4432]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/المغازی 12 (3997)، الأضاحی 16(5568)، (تحفة الأشراف: 11072)، موطا امام مالک/الضحایا 4 (8) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: ”اخیافی بھائی“ وہ بھائی، بہن جن کی ماں ایک ہو اور باپ الگ الگ ہوں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح