عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ ، زُهَيْرٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، زُهَيْرٌ ، زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ ، مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، ابْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهُوَ النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ، عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلْتَزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا مِنْهَا، وَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَشْرِبَةِ فِي الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبُوا فِي أَيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا". وَلَمْ يَذْكُرْ مُحَمَّدٌ: وَأَمْسِكُوا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تم لوگوں کو تین چیزوں سے روکا تھا: قبروں کی زیارت کرنے سے، اب ان کی زیارت کرو، اس زیارت سے تم میں خیر و بھلائی بڑھنی چاہیئے، میں نے تمہیں تین دن بعد قربانی کا گوشت کھانے سے روکا تھا، لیکن اب کھاؤ اور جتنا چاہو روک کر رکھو، میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے روکا تھا لیکن اب جس برتن میں چاہو پیو، لیکن کوئی نشہ لانے والی چیز نہ پیو۔ محمد بن معدان کی روایت میں «امسکوا» ”روک کر رکھنے“ کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4434]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 2034 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح