مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، قَتَادَةُ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَسْلَمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ , فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا"، قَالَ حُمَيْدٌ، وَقَالَ قَتَادَةُ: عَنْ أَنَسٍ:" وَأَبْوَالِهَا" , فَفَعَلُوا , فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ , وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا , وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَتَى بِهِمْ , فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ، وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَّرَ أَعْيُنَهُمْ , وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ اسلام لائے تو انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہیں آئی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم لوگ ہمارے اونٹوں میں جاتے اور ان کا دودھ پیتے (تو اچھا ہوتا)“، (حمید کہتے ہیں: قتادہ نے انس سے «البانہا» (دودھ کے) بجائے «ابو الہا» (پیشاب) روایت کی ہے۔) انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ ٹھیک ہو گئے تو اسلام لانے کے بعد کافر و مرتد ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسلمان چرواہے کو قتل کر دیا، اور آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے اور جنگجو بن کر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے کچھ لوگ بھیجے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر لیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیے، ان کی آنکھیں گرم سلائی سے پھوڑ دیں، اور انہیں حرہ (مدینے کے پاس پتھریلی زمین) میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ سب مر گئے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 757)، مسند احمد (3/107، 205) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح