عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدِنَا فَكُنْتُمْ فِيهَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا"، فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا قَامُوا إِلَى رَاعِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُ، وَرَجَعُوا كُفَّارًا وَاسْتَاقُوا ذَوْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ , وَأَرْجُلَهُمْ , وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عرینہ کے کچھ لوگ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم سب ہمارے اونٹوں میں جا کر رہتے، ان کا دودھ اور پیشاب پیتے (تو اچھا ہوتا)“ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر جب وہ اچھے ہو گئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چرواہے کو جا کر قتل کر دیا اور کافر و مرتد ہو گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اونٹوں کو ہانک لے گئے، آپ نے ان کی تلاش میں کچھ لوگ روانہ کئے، چنانچہ وہ سب گرفتار کر کے لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیے اور ان کی آنکھوں کو گرم سلائی سے پھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4034]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 597)، مسند احمد (3/205) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح