بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آدمی نذر مانے اور اسے پوری کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو اس کی نذر کے حکم کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل باب: آدمی نذر مانے اور اسے پوری کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو اس کی نذر کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 3851 سنن نسائی
إِسْحَاق بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16(2043)، الأیمان 29 (6697)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن ابی داود/الصوم 80 (2474)، الأیمان32(3325)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن ابن ماجہ/الصیام 60 (1772)، الکفارات 18 (2129)، (تحفة الأشراف: 10550)، مسند احمد (1/687)، مسند احمد (1/37 و2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 1 (2378) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3852 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: كَانَ عَلَى عُمَرَ نَذْرٌ فِي اعْتِكَافِ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کے ذمہ مسجد الحرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی نذر تھی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الخمیس 19 (3144)، المغازي 54 (4320)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، (تحفة الأشراف: 7521)، مسند احمد (2/10، 35، 153) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3853 سنن نسائی
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُبَيْدَ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ عُمَرَ كَانَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَهُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں (مسجد الحرام میں) ایک دن کا اعتکاف اپنے اوپر واجب کر لیا تھا، انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے انہیں اس میں اعتکاف کرنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، (تحفة الأشراف: 7916)، مسند احمد (2/82) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3854 سنن نسائی
يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأیمان 29 (3317، 3318)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، واللہ اعلم۔ ۲؎: زہری نے یہ حدیث: عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم: ۳۴۵۱-۳۴۵۶
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح