يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎“۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأیمان 29 (3317، 3318)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، واللہ اعلم۔ ۲؎: زہری نے یہ حدیث: عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم: ۳۴۵۱-۳۴۵۶
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح