إِسْحَاق بْنُ مُوسَى ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تو ”آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16(2043)، الأیمان 29 (6697)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن ابی داود/الصوم 80 (2474)، الأیمان32(3325)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن ابن ماجہ/الصیام 60 (1772)، الکفارات 18 (2129)، (تحفة الأشراف: 10550)، مسند احمد (1/687)، مسند احمد (1/37 و2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 1 (2378) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح