إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَجَّاجٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنَ ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ" , فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مر گئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: ”پانی پلانا“ تو یہ ہے مدینہ میں سعد رضی اللہ عنہ کی پانی کی سبیل۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3694 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
الحكم: حسن لغيره