بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 3694 — باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔
کتب سنن نسائی کتاب: وصیت کے احکام و مسائل باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں سفیان پر رواۃ کے اختلاف کا ذکر۔ حدیث 3694
حدیث نمبر: 3694 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، وَكِيعٌ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟، قَالَ:" سَقْيُ الْمَاءِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (پیاسوں کو) پانی پلانا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الوصايا/حدیث: 3694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الزکاة 41 (1680)، سنن ابن ماجہ/الأدب 8 (3684)، (تحفة الأشراف: 3834)، مسند احمد (5/284، 285 و6/7)، ویأتي فیما یلي: 3695، 3696 (حسن)»
وضاحت
۱؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1679) ابن ماجه (3684) منقطع،سعيد بن المسيب لم يدرك سعد بن عبادة رضي الله عنه. ولبعض الحديث شاهد تقدم (الأصل: 3680) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 348
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (3693) باب پر واپس اگلی حدیث (3695) →