بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: شوہر کے مرنے کے بعد بیوہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 3561 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، يَزِيدُ ، وَرْقَاءُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، قَالَ عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" نَسَخَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:" عِدَّتَهَا فِي أَهْلِهَا فَتَعْتَدُّ حَيْثُ شَاءَتْ"، وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: غَيْرَ إِخْرَاجٍ سورة البقرة آية 240".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ آیت «متاعا الی الحول غیر اخراج» ... «الی آخرہ» جس میں متوفیٰ عنہا زوجہا کے لیے یہ حکم تھا کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارے تو یہ حکم منسوخ ہو گیا ہے (اور اس کا ناسخ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: «فإن خرجن فلا جناح عليكم في ما فعلن في أنفسهن من معروف» (البقرة: 240) ہے، اب عورت جہاں چاہے اور جہاں مناسب سمجھے وہاں عدت کے دن گزار سکتی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3561]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر البقرة 41 (4531)، والطلاق50 (5355)، سنن ابی داود/الطلاق 45 (2301)، (تحفة الأشراف: 5900) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سلسلہ میں فریعہ بنت مالک کی حدیث سے استدلال کرنے والوں کی دلیل مضبوط ہے، کیونکہ اس حدیث کا معارضہ کرنے والے کوئی ٹھوس اور مضبوط دلیل نہ پیش کر سکے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح