عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو (یہ بھی) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی“ ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3502]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطلاق27 (2255)، (تحفة الأشراف: 6372) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: تاکہ وہ ایک بار پھر سوچ لے کہ وہ کتنی بڑی اور بھیانک قسم کھانے جا رہا ہے۔ ۲؎: یعنی جھوٹے ہوں گے تو اللہ کی لعنت و غضب کے سزاوار ہونے سے بچ نہ سکیں گے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح