عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ ," أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمْ يُجِزْهُ، وَعَرَضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے آپ کو جنگ احد کے موقع پر (جنگ میں شریک ہونے کے لیے) ۱۴ سال کی عمر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ نے انہیں (جنگ میں شرکت کی) اجازت نہ دی۔ اور غزوہ خندق کے موقع پر جب کہ وہ پندرہ سال کے ہو چکے تھے اپنے آپ کو پیش کیا تو آپ نے اجازت دے دی (اور مجاہدین میں شامل کر لیا)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3461]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الشہادات 18 (2664)، المغازي 29 (4097)، سنن ابی داود/الخراج 16 (2957)، الحدود 17 (4406)، (تحفة الأشراف: 8153)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 23 (1868)، سنن الترمذی/الأحکام 24 (1316)، الجہاد 31 (1711)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (5243)، مسند احمد (2/17) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ پندرہ سال کا لڑکا جوان ہو جاتا ہے اور جب تک جوان نہیں ہو جاتا جس طرح جنگ میں شریک نہیں ہو سکتا اسی طرح طلاق بھی نہیں دے سکتا، ابن عمر رضی الله عنہما نے جو یہ کہا کہ جنگ احد کے موقع پر چودہ سال کی عمر میں اور غزوہ خندق کے موقع پر پندرہ سال کی عمر میں پیش ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ چودہ سال کی عمر میں داخل ہو چکے تھے اور پندرہ سال کا مطلب ہے اس سے تجاوز کر چکے تھے، اس توجیہ سے غزوہ خندق کے وقوع سے متعلق جو اختلاف ہے اور اس اختلاف سے ابن عمر رضی الله عنہما کی عمر سے متعلق جو اشکال پیدا ہوتا ہے وہ رفع ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح