عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ ، أَبَا حَسَنٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُعَتِّبٍ، أَنَّ أَبَا حَسَنٍ مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ أَخْبَرَهُ , قَالَ:" كُنْتُ أَنَا وَامْرَأَتِي مَمْلُوكَيْنِ، فَطَلَّقْتُهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ أُعْتِقْنَا جَمِيعًا، فَسَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنْ رَاجَعْتَهَا كَانَتْ عِنْدَكَ عَلَى وَاحِدَةٍ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، خَالَفَهُ مَعْمَرٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوالحسن مولیٰ بنی نوفل کہتے ہیں کہ میں اور میری بیوی دونوں غلام تھے، میں نے اسے دو طلاقیں دے دی، پھر ہم دونوں اکٹھے ہی آزاد کر دیے گئے۔ میں نے ابن عباس سے مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے کہا: اگر تم اس سے رجوع کر لو تو وہ تمہارے پاس رہے گی اور تمہیں ایک طلاق کا حق حاصل رہے گا، یہی فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا ہے۔ معمر نے اس کے خلاف ذکر کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطلاق 6 (2187)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 32 (2082)، (تحفة الأشراف: 6561)، مسند احمد (1/229) (ضعیف) (اس کے راوی ”عمر بن معتب“ ضعیف ہیں)»
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2187) ابن ماجه (2082) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
الحكم: ضعيف