الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الَّتِي اسْتَعَاذَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ:" أَنَّ الْكِلَابِيَّةَ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ عُذْتِ بِعَظِيمٍ الْحَقِي بِأَهْلِكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اوزاعی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے اس عورت کے متعلق سوال کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (بچنے کے لیے، اللہ کی) پناہ مانگی تھی تو انہوں نے کہا: عروہ نے مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت بیان کی ہے کہ کلابیہ (فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان) جب (منکوحہ کی حیثیت سے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آئی اور (اپنی سادہ لوحی سے دوسری ازواج کے سکھا پڑھا دینے کے باعث آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتے ہی) کہہ بیٹھی «أعوذباللہ منک» ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (فوراً) کہا تم نے تو بہت بڑی ذات گرامی کی پناہ مانگ لی ہے، جاؤ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ (یہ کہہ کر گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے طلاق دے دی)۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الطلاق 3 (5254)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 18 (2050)، تحفة الأشراف: 16512) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح