بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مزدلفہ میں فجر امام کے ساتھ نہ پڑھ سکنے والے کے حکم کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: مزدلفہ میں فجر امام کے ساتھ نہ پڑھ سکنے والے کے حکم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 3042 سنن نسائی
سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، إِسْمَاعِيل ، وَدَاوُدَ ، وَزَكَرِيِّا ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، وَدَاوُدَ , وَزَكَرِيِّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاتَنَا هَذِهِ هَا هُنَا ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں (کسی وقت بھی) وقوف کر چکا ہے تو اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الحج 69 (1950)، سنن الترمذی/الحج 57 (851)، سنن ابن ماجہ/الحج 57 (3016)، (تحفة الأشراف: 9900)، مسند احمد 4/15، 261، 262، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3043 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٌ ، مُطَرِّفٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا مَعَ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ حَتَّى يُفِيضَ مِنْهَا، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَعَ النَّاسِ وَالْإِمَامِ، فَلَمْ يُدْرِكْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکا تو اس نے حج نہیں پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی اچھے ڈھنگ سے نہیں پایا، یہ تاویل اس لیے کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنا حج کا رکن نہیں ہے کہ اس کے فوت ہو جانے سے حج فوت ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3044 سنن نسائی
عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ، أُمَيَّةُ ، شُعْبَةَ ، سَيَّارٍ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْبَلْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ لَمْ أَدَعْ حَبْلًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ نماز (یعنی نماز فجر) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہو گیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3045 سنن نسائی
إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيَّ ، عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَوَقَفَ هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3046 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، إِسْمَاعِيل ، عَامِرٌ ، عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي مَا بَقِيَ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ هَا هُنَا مَعَنَا وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہو چکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آ چکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3047 سنن نسائی
عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَجِّ؟، فَقَالَ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهَا فِي النَّاسِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3019 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 3048 سنن نسائی
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِي ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پورا مزدلفہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3018 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح