إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ ، خَالِدٌ ، شُعْبَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ، الشَّعْبِيَّ ، عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَوَقَفَ هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: ”جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح