بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: محرم مر جائے تو اسے خوشبو نہ لگائی جائے۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: حج کے احکام و مناسک باب: محرم مر جائے تو اسے خوشبو نہ لگائی جائے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 2858 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا «فأقعصته» (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 19 (1265)، 20 (1266)، 21 (1268)، جزاء الصید 20 (1850)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن الدارمی/المناسک 3239، 3240)، (تحفة الأشراف: 5437)، مسند احمد (1/333)، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 2859 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مُحْرِمًا نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" اغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلُّ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/جزاء الصید 13 (1839)، سنن ابی داود/المناسک 84 (3241)، (تحفة الأشراف: 5497)، مسند احمد (1/266) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح