قُتَيْبَةُ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَأَقْعَصَهُ أَوْ قَالَ: فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر گیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «فأقعصه» (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا «فأقعصته» (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2858]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 19 (1265)، 20 (1266)، 21 (1268)، جزاء الصید 20 (1850)، صحیح مسلم/الحج 14 (1206)، سنن الدارمی/المناسک 3239، 3240)، (تحفة الأشراف: 5437)، مسند احمد (1/333)، سنن الدارمی/المناسک 35 (1894) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح