عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، الْأَعْمَشَ ، شَقِيقًا ، خَبَّابٌ
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْأَعْمَشِ. ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، قال: سَمِعْتُ شَقِيقًا، قال: حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قال:" هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ، فَمِنَّا مَنْ مَاتَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَيْئًا نُكَفِّنُهُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةً، كُنَّا إِذَا غَطَّيْنَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ , وَإِذَا غَطَّيْنَا بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّيَ بِهَا رَأْسَهُ وَنَجْعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا" , وَاللَّفْظُ لِإِسْمَاعِيلَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خباب رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی، ہم اللہ تعالیٰ کی رضا چاہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ہمارا اجر ثابت ہو گیا، پھر ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو مر گئے (اور) اس اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں چکھا، انہیں میں سے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ہیں، جو جنگ احد میں قتل کئے گئے، تو ہم نے سوائے ایک (چھوٹی) دھاری دار چادر کے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جس میں انہیں کفناتے، جب ہم ان کا سر ڈھکتے تو پیر کھل جاتا، اور جب پیر ڈھکتے تو سر کھل جاتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھک دیں اور ان کے پیروں پہ اذخر نامی گھاس ڈال دیں، اور ہم میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جن کے پھل پکے اور وہ اسے چن رہے ہیں (یہ الفاظ اسماعیل کے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1904]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 27 (1276)، ومناقب الأنصار 45 (3897، 3914)، والمغازي 17 (4047)، 26 (4082)، والرقاق 7 (6432)، 16 (6448)، صحیح مسلم/الجنائز 13 (940)، سنن ابی داود/الوصایا 11 (2876)، سنن الترمذی/المناقب 54 (3853)، مسند احمد 5/109، 111، 112، 6/395، (تحفة الأشراف: 3514) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح