عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ جَاءَ ابْنُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اعْطِنِي قَمِيصَكَ حَتَّى أُكَفِّنَهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ فَأَعْطَاهُ قَمِيصَهُ , ثُمَّ قَالَ:" إِذَا فَرَغْتُمْ فَآذِنُونِي أُصَلِّي عَلَيْهِ" فَجَذَبَهُ عُمَرُ وَقَالَ: قَدْ نَهَاكَ اللَّهُ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ , فَقَالَ:" أَنَا بَيْنَ خِيرَتَيْنِ قَالَ: اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ سورة التوبة آية 84" فَتَرَكَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی (منافق) مر گیا، تو اس کے بیٹے (عبداللہ رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، (اور) عرض کیا: (اللہ کے رسول!) آپ مجھے اپنی قمیص دے دیجئیے تاکہ میں اس میں انہیں کفنا دوں، اور آپ ان پر نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں دے دی، پھر فرمایا: ”جب تم فارغ ہو لو تو مجھے خبر کرو میں ان کی نماز (جنازہ) پڑھوں گا“ (اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوئے) تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو کھینچا، اور کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز (جنازہ) پڑھنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں دو اختیارات کے درمیان ہوں (اللہ تعالیٰ نے) فرمایا: «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم» ”تم ان کے لیے مغفرت چاہو یا نہ چاہو دونوں برابر ہے“ (التوبہ: ۸۰) چنانچہ آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی: «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» ”تم ان (منافقین) میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ ہی ان کی قبر پر کھڑے ہو“ (التوبہ: ۸۴) تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھنا چھوڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1901]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الجنائز 22 (1269)، وتفسیر التوبة 12 (4670)، 13 (4672)، واللباس 8 (5796)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 2 (2400)، وصفات المنافقین (2774)، سنن الترمذی/تفسیر التوبة (3098)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 31 (1523)، (تحفة الأشراف: 8139)، مسند احمد 2/18 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح