بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: وتر کی دعا میں دونوں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل باب: وتر کی دعا میں دونوں ہاتھ نہ اٹھانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1749 سنن نسائی
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، شُعْبَةَ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، أَنَسٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنْ دُعَائِهِ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ" , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِثَابِتٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ؟، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ , قُلْتُ: سَمِعْتَهُ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ استسقاء کے علاوہ کسی دعا میں نہیں اٹھاتے تھے۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ثابت سے پوچھا: آپ نے اسے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: سبحان اللہ، میں نے کہا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الاستسقاء 1 (895)، (تحفة الأشراف: 444)، مسند احمد 3/184، 209، 216، 259 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ کہنا ان کا بطور تعجب تھا، مطلب یہ ہے کہ سنا کیوں نہیں ہے اگر نہیں سنا ہوتا تو بیان کیسے کرتا، اور یہ مؤلف کا قیاسی استنباط ہے، یہاں نہ اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ اٹھانے میں مبالغہ نہیں کرتے تھے، نہ یہ کہ سرے سے اٹھاتے ہی نہیں تھے کیونکہ قنوت میں اور دوسرے موقعوں پر بھی آپ کا ہاتھ اٹھانا صحیح حدیثوں سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح ق دون قوله قال شعبة
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح ق دون قوله قال شعبة