بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: گیارہ رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: تہجد (قیام اللیل) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل باب: گیارہ رکعت وتر پڑھنے کی کیفیت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 1727 سنن نسائی
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو گیارہ رکعت پڑھتے، اور آپ ایک کے ذریعہ اسے وتر کر لیتے، پھر آپ اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث رقم: 1697 (صحیح) (وتر کے بعد لیٹنے کا ذکر شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹتے تھے)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لكن ذكر الاضطجاع بعد الوتر شاذ
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح لكن ذكر الاضطجاع بعد الوتر شاذ