قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْثَرٌ ، الْأَعْمَشِ ، الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَنَحْنُ رَافِعُو أَيْدِينَا فِي الصَّلَاةِ , فَقَالَ:" مَا بَالُهُمْ رَافِعِينَ أَيْدِيَهُمْ فِي الصَّلَاةِ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ الْخَيْلِ الشُّمُسِ , اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اور ہم نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا (اٹھا کر سلام کر) رہے تھے ۱؎ تو آپ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ نماز میں اپنے ہاتھ اٹھا رہے ہیں گویا وہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، نماز میں سکون سے رہا کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1185]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 27 (430)، سنن ابی داود/الصلاة 167 (912)، 189 (1000)، (تحفة الأشراف: 2128)، مسند احمد 5/86، 88، 93، 101، 102، 107 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: جیسا کہ اگلی روایت میں «فنسلم بأیدینا» کے الفاظ آ رہے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح