بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 1186 — باب: نماز میں ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: نماز میں سہو کے احکام و مسائل باب: نماز میں ہاتھ اٹھا کر سلام کرنے کا بیان۔ حدیث 1186
حدیث نمبر: 1186 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مِسْعَرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّمُ بِأَيْدِينَا , فَقَالَ:" مَا بَالُ هَؤُلَاءِ يُسَلِّمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمُسٍ؟ أَمَا يَكْفِي أَحَدُهُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ، ثُمَّ يَقُولَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمُ , السَّلَامُ عَلَيْكُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر سلام کرتے تھے، اس پر آپ نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ اپنے ہاتھ اٹھا اٹھا کر سلام کرتے ہیں گویا کہ یہ شریر گھوڑوں کی دم ہیں، کیا ان کے لیے یہ کافی نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ اپنی ران پر رکھیں پھر «السلام عليكم، السلام عليكم» کہیں۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1186]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ماقبلہ صحیح مسلم/الصلاة 27 (431)، سنن ابی داود/الصلاة 189 (998، 999)، مسند احمد 5/86، 88، 102، 107، (تحفة الأشراف: 2207)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1319، 1327 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1185) باب پر واپس اگلی حدیث (1187) →