بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
Sunan an-Nasai
کتب سنن نسائی کتاب: امامت کے احکام و مسائل باب: صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 870 سنن نسائی
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، 164 (871)، (تحفة الأشراف: 172)، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 871 سنن نسائی
قُتَيْبَةُ ، نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو ، أَبِي الْجَوْزَاءِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا نُوحٌ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ مَالِكٍ وَهُوَ عَمْرٌو، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال:" كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ: فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتی تھی، جو لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھی، تو بعض لوگ پہلی صف میں چلے جاتے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں، اور بعض لوگ پیچھے ہو جاتے یہاں تک کہ بالکل پچھلی صف میں چلے جاتے ۱؎، تو جب وہ رکوع میں جاتے تو وہ اپنے بغل سے جھانک کر دیکھتے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «ولقد علمنا المستقدمين منكم ولقد علمنا المستأخرين» (الحجر: ۲۴) ہم تم میں سے آگے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں، اور پیچھے رہنے والوں کو بھی خوب جانتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 871]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/تفسیر سورة الحجر 15 (3122)، سنن ابن ماجہ/إقامة 68 (1046)، (تحفة الأشراف: 5364)، مسند احمد 1/305 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مؤلف نے اسے پیچھے تنہا پڑھنے پر محمول کیا ہے لیکن حدیث صراحۃً اس پردلالت نہیں کرتی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (3122) ابن ماجه (1046) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 327
الحكم: صحيح