عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَسًا
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قال:" أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا فَصَلَّيْتُ أَنَا وَيَتِيمٌ لَنَا خَلْفَهُ وَصَلَّتْ أُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے گھر آئے تو میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی، اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ہمارے پیچھے تنہا نماز پڑھی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 870]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، 164 (871)، (تحفة الأشراف: 172)، مسند احمد 3/110 (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس روایت سے مصنف نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھنے کے جواز پر استدلال کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہوتا ہے لیکن جو لوگ عدم جواز کے قائل ہیں وہ اسے عورتوں کے لیے مخصوص مانتے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح