عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، شَرِيكٌ ، سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال:" كُنَّا مَعَهُ بِجَمْعٍ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَصَلَّى بِنَا الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ"، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَكَذَا صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مزدلفہ میں تھے، تو انہوں نے اذان دی پھر اقامت کہی، اور ہمیں مغرب پڑھائی، پھر کہا: عشاء بھی پڑھ لی جائے، پھر انہوں نے عشاء دو رکعت پڑھائی، میں نے کہا: یہ کیسی نماز ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس جگہ ایسی ہی نماز پڑھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر حدیث حدیث رقم: 482 (صحیح) (لیکن ’’ثم قال: الصلاة‘‘ کا ٹکڑا صحیح نہیں ہے، اس کی جگہ ’’ثم أقام الصلاة‘‘ صحیح ہے، جیسا کہ رقم: 82 میں گزرا)۔»
قال الشيخ الألباني
صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقام
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح دون قوله ثم قال الصلاة والمحفوظ ثم أقام