بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 657 — باب: نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
کتب سنن نسائی کتاب: اذان کے احکام و مسائل باب: نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔ حدیث 657
إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ ، حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَارُونَ، قال: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قال:" دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمُزْدَلِفَةِ، فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (عرفہ سے) لوٹے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھائی، اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہیں پڑھی۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2630) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (656) باب پر واپس اگلی حدیث (658) →