مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ ، سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ ، مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، لِصُهَيْبٍ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ الضَّحَّاكِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِصُهَيْبٍ:" مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ خَاتَمَ الذَّهَبِ؟ قَالَ: قَدْ رَآهُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ فَلَمْ يَعِبْهُ، قَالَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں سونے کی انگوٹھی پہنے دیکھتا ہوں؟ انہوں نے کہا: اسے تو انہوں نے بھی دیکھا ہے جو آپ سے بہتر تھے، لیکن اسے معیوب نہیں سمجھا۔ پوچھا: وہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5166]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4961) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ”عطاء خراسانی‘‘ مدلس اور حافظہ کے کمزور ہیں)»
وضاحت
۱؎: یہ حدیث منکر ہے، کیونکہ عطاء خراسانی مدلس ہیں اور عنعنہ کے ساتھ روایت کی ہے، اور ان کی یہ روایت صحیح روایات کے خلاف ہے۔
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف، إسناده ضعيف، عطاء الخراساني عنعن (وكان يدلس،انظر تقريب التهذيب: 4600 والفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين ص 215 رقم 50 طبع جديد) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 362
الحكم: ضعيف الإسناد