بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4893 — باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟ حدیث 4893
حدیث نمبر: 4893 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْجَنْبِيُّ أَبُو مَالِكٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْجَنْبِيُّ أَبُو مَالِكٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَسْتَعِيرُ الْحُلِيَّ لِلنَّاسِ، ثُمَّ تُمْسِكُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِتَتُبْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , وَتَرُدَّ مَا تَأْخُذُ عَلَى الْقَوْمِ"، ثُمَّ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ يَا بِلَالُ , فَخُذْ بِيَدِهَا فَاقْطَعْهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت لوگوں کے زیورات مانگ لیتی پھر اسے رکھ لیتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس عورت کو اللہ اور اس کے رسول سے توبہ کرنی چاہیئے، اور جو کچھ لیتی ہے اسے لوگوں کو لوٹا دینا چاہیئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلال کھڑے ہو اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کاٹ دو۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4893]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8079، 19500) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: ضعيف الإسناد
← پچھلی حدیث (4892) باب پر واپس اگلی حدیث (4894) →