بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4892 — باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟
کتب سنن نسائی کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل باب: کون سا سامان محفوظ سمجھا جائے اور کون سا نہ سمجھا جائے؟ حدیث 4892
حدیث نمبر: 4892 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" كَانَتْ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ مَتَاعًا عَلَى أَلْسِنَةِ جَارَاتِهَا وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ مخزوم کی ایک عورت پڑوسی عورتوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ سامان مانگتی، پھر مکر جاتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قطع السارق/حدیث: 4892]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (4891) باب پر واپس اگلی حدیث (4893) →