عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبَايَعَ الْبَيِّعَانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , أَوْ يَكُونَ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی بیع کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع کا اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ دونوں الگ تھلگ نہ ہوں، یا پھر ان کی بیع میں اختیار کی شرط ہو، تو اگر بیع میں شرط اختیار ہو تو بیع ہو جاتی ہے (لیکن حق اختیار باقی رہتا ہے)“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/البیوع 10 (1531)، (تحفة الأشراف: 7779) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح