مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ ، مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ ، إِسْمَاعِيل ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحْرِزٌ بُنُ الْوَضَّاحُ , عَنْ إِسْمَاعِيل , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُتَبَايِعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا , إِلَّا أَنْ يَكُونَ الْبَيْعُ كَانَ عَنْ خِيَارٍ , فَإِنْ كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”خرید و فروخت کرنے والوں کو اس وقت تک اختیار رہتا ہے جب تک وہ الگ نہ ہوں، سوائے اس کے کہ بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہو، لہٰذا اگر بیع اختیار کی شرط کے ساتھ ہوئی ہے تو بیع ہو جاتی ہے“ (البتہ اختیار باقی رہتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد النسائي (تحفة الأشراف: 7506) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح