بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن نسائی

حدیث نمبر: 4020 — باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔
کتب سنن نسائی کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل باب: سب سے بڑے گناہ کا بیان (واصل عن ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی سفیان سے روایت کرنے میں یحییٰ اور عبدالرحمٰن کے اختلاف کا ذکر)۔ حدیث 4020
حدیث نمبر: 4020 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدَةُ ، يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" الشِّرْكُ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَأَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ الْفَقْرِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ". ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ سورة الفرقان آية 68. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ , وَالصَّوَابُ الَّذِي قَبْلَهُ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ هَذَا خَطَأٌ , إِنَّمَا هُوَ وَاصِلٌ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: شرک یعنی یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ، اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو، اور فقر و فاقہ کے ڈر سے کہ بچہ تمہارے ساتھ کھائے گا تم اپنے بچے کو قتل کر دو، پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر» اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے ہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: اس حدیث کی سند میں غلطی ہے، اس سے پہلے والی سند صحیح ہے، یزید کی اس سند میں غلطی ہے (کہ واصل کی بجائے عاصم ہے) صحیح «واصل» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 9279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: صحيح لغيره
← پچھلی حدیث (4019) باب پر واپس اگلی حدیث (4021) →