عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، يَحْيَى ، سُفْيَانُ ، وَاصِلٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَاصِلٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ". قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم کسی کو اللہ کے برابر ٹھہراؤ حالانکہ اس نے تم کو پیدا کیا ہے“۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے بچے کو اس وجہ سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا“۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/تفسیر الفرقان 2 (4761)، سنن الترمذی/تفسیر سورة الفرقان (3183)، (تحفة الأشراف: 9311)، مسند احمد (1/434، 462، 464) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح