قُتَيْبَةُ ، اللَّيْثُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق ، زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ ," أَنَّ زَوْجَهَا تَكَارَى عُلُوجًا لِيَعْمَلُوا لَهُ، فَقَتَلُوهُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَتْ: إِنِّي لَسْتُ فِي مَسْكَنٍ لَهُ، وَلَا يَجْرِي عَلَيَّ مِنْهُ رِزْقٌ، أَفَأَنْتَقِلُ إِلَى أَهْلِي، وَيَتَامَايَ، وَأَقُومُ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ:" افْعَلِي، ثُمَّ قَالَ: كَيْفَ قُلْتِ؟ فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ قَوْلَهَا، قَالَ: اعْتَدِّي حَيْثُ بَلَغَكِ الْخَبَرُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
فریعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے کچھ غلام اپنے یہاں کام کرانے کے لیے اجرت پر لیے تو انہوں نے انہیں مار ڈالا چنانچہ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا اور میں نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے شوہر کے کسی مکان میں بھی نہیں ہوں اور میرے شوہر کی طرف سے میرے گزران کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے تو میں اپنے گھر والوں (یعنی ماں باپ) اور یتیموں کے پاس چلی جاؤں اور ان کی خبرگیری کروں؟ آپ نے فرمایا: ”ایسا کر لو“، پھر (تھوڑی دیر بعد) آپ نے فرمایا: ”کیسے بیان کیا تم نے (ذرا ادھر آؤ تو)“؟ تو میں نے اپنی بات آپ کے سامنے دہرا دی۔ (اس پر) آپ نے فرمایا: ”جہاں رہتے ہوئے تمہیں اپنے شوہر کے انتقال کی خبر ملی ہے وہیں رہ کر اپنی عدت کے دن بھی پوری کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح